کراچی (این این آئی)موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال جدید زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے،
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل موبائل اسکرولنگ نہ صرف وقت ضائع کرتی ہے بلکہ دماغی کارکردگی، توجہ، یادداشت اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص نے صرف چند منٹ کے لیے موبائل استعمال کرنے کا ارادہ کیا ہو لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک گھنٹہ گزر جائے تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مخصوص ڈیزائن اور انسانی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر سوشل میڈیا ایپس اس انداز میں تیار کی جاتی ہیں کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارے۔ نئی پوسٹس، مختصر ویڈیوز اور مسلسل بدلتے مواد کی فراہمی صارف کو بار بار اسکرول کرنے پر آمادہ رکھتی ہے، جس سے یہ عادت وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اس عمل میں دماغ میں موجود **ڈوپامائن** نامی کیمیائی مادہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جو خوشی، دلچسپی اور نئے انعام کی توقع سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہر نئی پوسٹ یا ویڈیو کے ساتھ صارف کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا دیکھنے کو ملے گا، یہی غیر یقینی کیفیت دماغ کو مزید اسکرول کرنے پر مائل رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین اس نظام کو جوئے کی سلاٹ مشین سے تشبیہ دیتے ہیں،
جہاں ہر نئی کوشش ممکنہ انعام کی امید پیدا کرتی ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق سوشل میڈیا فیڈ کا کوئی واضح اختتام نہیں ہوتا، جس کے باعث صارف کو قدرتی طور پر رکنے یا وقفہ لینے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کتاب یا ٹی وی پروگرام ختم ہونے پر انسان خود بخود اگلے مرحلے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یہی مسلسل اسکرولنگ طویل مدت میں توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت، یادداشت اور گہرائی سے مطالعہ یا کسی ایک کام پر مستقل توجہ دینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اسکرولنگ ذہنی دباؤ، بے چینی، مایوسی اور جذباتی تھکن میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اکثر لوگ ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں، لیکن منفی یا پریشان کن مواد دیکھنے سے ان کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔البتہ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا براہِ راست دماغ کو تباہ کر دیتا ہے،
تاہم مسلسل دہرائی جانے والی عادتیں دماغ کے کام کرنے کے انداز اور رویوں پر ضرور اثرانداز ہوتی ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ماہرین نے ذہنی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ اسکرین ٹائم محدود رکھا جائے، موبائل استعمال کے دوران وقفے لیے جائیں، باقاعدگی سے جسمانی ورزش کی جائے، کتابوں کے مطالعے کو معمول بنایا جائے اور اہلِ خانہ و دوستوں کے ساتھ براہِ راست سماجی سرگرمیوں میں وقت گزارا جائے، تاکہ دماغ متوازن انداز میں کام کرے اور غیر ضروری اسکرولنگ کی عادت پر قابو پایا جا سکے۔



















































