اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کراچی کے علاقے لی مارکیٹ پنجابی محلہ میں لاپتا ہونے والے 6 سالہ بچے محمد ولی کی لاش دو روز بعد گھر کے قریب ایک بوری سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے واقعے میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جو مقتول بچے کا پڑوسی بتایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محمد ولی پیر کی شام گھر سے قریبی دکان پر سامان لینے گیا تھا، لیکن واپس نہ آیا۔ اہل خانہ نے فوری طور پر اس کی تلاش شروع کی، تاہم منگل اور بدھ کی درمیانی شب اس کی بوری میں بند لاش ایک قریبی عمارت کے نزدیک ملی، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ملزم نے مبینہ طور پر بچے کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد اسے قتل کیا۔ پولیس نے ملزم کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔
غم سے نڈھال والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی لاش انتہائی افسوسناک حالت میں بوری میں بند کر کے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ دوسری جانب والد، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ چلاتے ہیں، نے بتایا کہ محمد ولی ان کی چار بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کی موت نے ان کے خاندان کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق وہ دو روز تک مسلسل بچے کی تلاش کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ واقعہ پڑوسی کے گھر میں پیش آیا، تاہم انہیں وہاں جانے سے روک دیا گیا، جبکہ ملزم خود بھی تلاش میں شریک ہونے کا تاثر دیتا رہا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کی مقتول کے والد سے ذاتی رنجش تھی، تاہم بچے کے والدین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔



















































