اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل پر سامنے آنے والے عوامی اور سیاسی تحفظات کے بعد اس کا نیا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی تجاویز میں شہریوں کی نجی املاک کے تحفظ کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی ڈرافٹ میں ایسی شقیں شامل تھیں جن کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور فائبر نیٹ ورک کی تنصیب سے متعلق نجی جائیدادوں کے استعمال پر خدشات پیدا ہوئے تھے۔ ان اعتراضات کے بعد حکومت نے بل کی متنازعہ شقوں پر دوبارہ غور کرتے ہوئے نیا مسودہ تیار کیا ہے۔
ترمیم شدہ ڈرافٹ میں شہریوں کی ذاتی جائیدادوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے نئی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری زمین پر مفت ’’رائٹ آف وے‘‘ فراہم کرنے کی تجویز کا بھی ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس بل کے تحت کسی بھی نجی ملکیت پر مالک کی رضامندی اور باقاعدہ اجازت کے بغیر نہ ٹیلی کام ٹاور نصب کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کمپنی کو وہاں کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں جن نکات پر اعتراضات اور خدشات کا اظہار کیا گیا، ان پر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق قانون سازی کے دوران مختلف آراء اور تحفظات سامنے آنا ایک معمول کا اور آئینی عمل ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ متنازع سمجھی جانے والی شقوں میں مزید قانونی وضاحت شامل کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے ابہام یا غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے اور عوام کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں۔



















































