بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

8 بجے تک

datetime 11  جون‬‮  2026
میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں گاڑی پر جائوں تو تین چار منٹ میں پہنچ جاتا ہوں اور اگر پیدل نکلوں تو زیادہ سے زیادہ دس منٹ لگتے ہیں‘ میں عموماً ڈیڑھ گھنٹہ جم میں گزارتا تھا‘ بیس سے تیس منٹ کارڈیو اور باقی گھنٹہ مسلز ایکسرسائز کرتا تھا‘ یہ میرا طویل عرصہ سے معمول تھا‘ میں سردیوں میں عموماً دن کے وقت ایکسرسائز کرتا ہوں جب کہ گرمیوں میں شام یا رات کے وقت‘ رمضان میں یہ معمول افطاری کے بعد شفٹ ہو جاتا ہے‘ اپریل کے مہینے میں جب تیل کا بحران پیدا ہوا تو حکومت نے تمام مارکیٹس‘ بازار‘ ریستوران اور جم آٹھ بجے بند کرنا شروع کر دیے‘ میں نے پہلی مرتبہ اسلام آباد میں حکومت کے کسی فیصلے پر عمل درآمد ہوتے دیکھا‘ حکومتی اہلکار آٹھ بجے سے پہلے مارکیٹوں‘ ریستورانوں اور جم میں پہنچ جاتے تھے اور آٹھ بجنے سے پانچ منٹ پہلے دروازے بند کرا دیتے تھے‘ میرا جم بھی ٹھیک آٹھ بجے بند ہو جاتا تھا‘ میں شام ساڑھے چھ سے سات بجے تک ’’وی لاگ‘‘ کرتا ہوں‘ میں وی لاگ کے فواً بعد جم کے لیے بھاگ کھڑا ہوتا تھا‘ سٹوڈیو سے نکلنے‘ کپڑے تبدیل کرنے اور جم میں داخل ہوتے ہوتے سات بج کر 20 منٹ ہو جاتے تھے یوں میرے پاس صرف 40 منٹ بچتے تھے‘ یہ معمول پندرہ بیس دن رہا‘ میں نے ان پندرہ بیس دنوں میں چند دل چسپ چیزیں ’’آبزرو‘‘ کیں مثلاً میں اس فیصلے سے قبل آہستہ آہستہ جم جاتا تھا‘ ڈرائیور نہیں ملتا تھا تو پیدل چلا جاتا تھا‘ ریسیپشن پر بھی علیک سلیک میں دو چار منٹ ضائع کر دیتا تھا‘ جم میں پانچ منٹ مشینوں کا جائزہ لیتا رہتا تھا‘ لوگوں سے گپ شپ کرتا تھا اور بعض اوقات رش کی وجہ سے کسی نہ کسی سے منہ ماری بھی ہو جاتی تھی لیکن آٹھ بجے کے فیصلے کے بعد صورت حال بدل گئی‘ میرے سٹوڈیو سے نکلنے سے قبل ڈرائیور گاڑی سمیت تیار کھڑا ہوتا تھا‘ میں جم کے کپڑے پہن کر وی لاگ کرتا تھا تاکہ کپڑے بدلنے میں وقت ضائع نہ ہو‘ جم پہنچ کر اگر لفٹ نہیں ملتی تھی تو دوڑ کر سیڑھیاں چڑھ جاتا تھا‘ جو بھی مشین ملتی تھی میں سیدھا اس پر ایکسرسائز شروع کر دیتا تھا‘ علیک سلیک بھی صرف اشاروں تک محدود ہو گئی اور اگر ویٹ یا مشینیں بزی ہوتی تھیں تو میں دوسروں سے درخواست
کر کے ان کے ساتھ شیئر کر لیتا تھا‘ اگر دوسروں کو وزن یا مشین درکار ہوتی تھی تو میں انہیں بھی خوش دلی سے ایکسرسائز کی دعوت دے دیتا تھا‘ جم کے لڑکے سات بج کر پچاس منٹ پر لائیٹس بند کرنا شروع کر دیتے تھے لیکن میں مائینڈ کیے بغیر دس منٹ اندھیرے میں ورزش کرتا رہتا تھا اور آخری منٹ تک ایکسرسائز کرتا تھا‘ اس دوران کسی سے بحث ہوتی تھی‘ کوئی مکالمہ ہوتا تھا اور نہ ہی غیرضروری علیک سلیک ہوتی تھی‘ میں نے محسوس کیا یہ معاملہ صرف مجھ تک محدود نہیں‘ پورا جم اب جم کر ایکسرسائز کرتا ہے‘ تمام مشینیں مصروف رہتی ہیں‘ کوئی شخص کسی کے پاس کھڑا ہو کر وقت ضائع نہیں کر تا‘ عملے کے ساتھ بھی کسی کی بحث نہیں ہوتی‘ کسی کو کسی کے ساتھ کوئی شکایت نہیں ہوتی‘ ڈمبل اگر گیلے ہیں یا فلور پر پانی گر گیا یا کوئی مشین پراپر کام نہیں کر رہی تو بھی کوئی شکایت نہیں کر تا اورجم کے فلور پر سب لوگ دل و جان سے ایکسرسائز کر تے ہیں‘ میں اس سے قبل روزانہ انتظامیہ کے ساتھ کسی نہ کسی شخص کی منہ ماری دیکھتا تھا لیکن ان دنوں میں سب کا رویہ تبدیل ہو گیا‘ شکایت کرنے والے بھی خاموش ہو گئے اور انتظامیہ نے بھی لوگوں کو شکایت کا موقع دینا بند کر دیا‘ میں نے یہ بھی محسوس کیا وہ ایکسرسائز جسے مکمل کرنے میں مجھے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا تھا‘ میں وہ آدھ گھنٹے سے چالیس منٹ میں پوری کر لیتا تھا اور پہلے سے کہیں زیادہ مطمئن اور خوش ہوتا تھا۔ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اس کی صرف ایک وجہ تھی ہم لوگ یہ جانتے تھے ہمارے پاس وقت کم ہے‘ جم ٹھیک آٹھ بجے بند ہو جائے گا اور ہماری ایکسرسائز ادھوری رہ جائے گی چناں چہ ہم نے وقت ضائع نہیں کرنا‘ ہمیں یہ بھی پتا چل گیاعلیک سلیک‘ لفٹ یا سیڑھیوں کی چوائس‘ شکایات‘ رش یا مشینوں کی خرابی یہ سب وقت ضائع کرتی ہیں‘ دوسرا ہم اگر آپس میں مل کر ایکسر سائز کرلیں‘ دوسروں کو موقع دیں اور دوسروں سے موقع لے بھی لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں‘ ہم سب اس طریقے سے مل کر اپنا ٹاسک پورا کر لیں گے‘ دوسرا یہ بھی محسوس ہوا انسان اگر ایکسرسائز یا کوئی دوسرا کام کرنا چاہے تو آدھ یا پون گھنٹہ کافی ہوتا ہے بس فوکس اور یک سوئی درکار ہوتی ہے اور ڈیڑھ دو گھنٹے کا کام آدھ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے‘ یہ آٹھ گھنٹے کا معمول دس بارہ دن رہا لیکن اس نے میرا زندگی کے بارے میں نظریہ بدل دیا‘ مثلاً میں یہ سمجھتا تھا میرے پاس بہت وقت ہے لہٰذا میں بلاوجہ کی بحث‘ لوگوں سے غیر ضروری اختلافات‘ معمولی باتوں پر ناراضی‘ غیبت‘ دنیا سے غیرحقیقی توقعات‘ جھوٹی انا‘ جھوٹی نفرت‘ جھوٹا پیار اور آج کا کام کل اور کل کا کام پرسوں پر چھوڑنے جیسی علتوں کا شکار تھا‘ میرا زیادہ وقت اس قسم کی غیر ضروری سرگرمیوں میں ضائع ہو رہا تھا‘ میں نے آدھی سے زیادہ زندگی ان غیر پیداواری کاموں میں برباد کر دی‘ میں اگر یہ وقت بچا لیتا تو میں زیادہ اچھی اور شان دار زندگی گزار سکتا تھا۔ میں نے سوچا میں اگر آج بھی اپنی علتیں ترک کر دوں اور زندگی میں فوکس پیدا کر لوں تو میرا وقت اور توانائی دونوں بچ سکتے ہیں چناں چہ میں میز پر بیٹھا‘ میں نے اپنی منفی عادتوں کی فہرست بنائی اور زندگی کو مزید سیدھا اور کلیئر کر لیا‘ آپ یقین کریں میری زندگی کے مزے میں اضافہ ہو گیا ہے ‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے دنیا میں صرف 16 اعشاریہ 8 فیصد لوگ 60 سال تک پہنچ پاتے ہیں‘ ہم میں سے صرف 10 فیصد لوگ 65 سال تک پہنچ پاتے ہیں اور دنیا کے صرف ساڑھے تین فیصد لوگ 70 سال کی عمر تک پہنچ پاتے ہیں باقی سب پہلے ہی لڑھک جاتے ہیں اور یہ ڈیٹا گلوبل ہے‘ آپ اسے گوگل کر سکتے ہیں‘ دوسرا آج تک کوئی ایسا شخص دنیا میں نہیں آیا جو اس زمین پر مستقل ٹک سکا ہو‘ ہم سب مخصوص وقت کے لیے آتے ہیں اور وقت پورا کر کے چلے جاتے ہیں‘ ہم کہاں سے آتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں‘ آج تک اس کا کوئی حتمی اور مستقل فیصلہ نہیں ہو سکا بس ایک چیز طے ہے‘ ہم اگر آ گئے ہیں تو پھر ہم نے چلے جانا ہے لیکن ہم کب جائیں گے یہ ہمیں کوئی نہیں بتا سکتا‘ ہم اگلے لمحے بھی رخصت ہو سکتے ہیں‘ ہماری چائے‘ ہمارا ناشتہ‘ ہمارے استری شدہ کپڑے اور ہمارے پالشڈ جوتے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ہمارا اٹکا ہوا سانس نکل جائے گا اور اس ہم میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر گلی کا چوکی دار سب شامل ہیں اور ہم اگر آج رخصت نہیں ہوتے اور تمام ان ہونیوں سے بچ جاتے ہیں تو بھی ہم 16 اعشاریہ 8 فیصد لوگوں کے گروپ میں ہوں گے یا 10 فیصد لوگوں میں یا پھر ہم ساڑھے تین فیصد خوش نصیبوں میں شامل ہوں گے اور اگر ہم ساڑھے تین فیصد سے بھی آگے نکل گئے تو ہماری عمر 80 یا 90 سال ہو جائے گی لیکن ہمارے اس جینے کو جینا کہنا جینے کی توہین ہو گی۔ آپ ذرا تصور کیجیے انسان جب اپنی مرضی سے کھا نہ سکے اور اگر کھالے تو اسے جسم سے نکال نہ سکے‘ اپنی آنکھ سے دیکھ نہ سکے اور اپنے کان سے سن نہ سکے اور یہ اگر بستر سے کرسی اور کرسی سے واش روم تک نہ جا سکے‘ یہ سفر نہ کر سکے اور دوائوں کے بغیر سانس نہ لے سکے تو اس زندگی کا کیا فائدہ؟ چناں چہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن 70 سال کے بعد زندگی‘ زندگی نہیں رہتی یہ محتاجی بن جاتی ہے‘ آپ اگر بقائمی ہوش وحواس بھی ہوں‘ آپ اگرصحت مند بھی ہوں تو بھی آپ ایک چوتھائی رہ جاتے ہیں‘ آپ کے دوست احباب‘ عزیزرشتے دار اور کلاس فیلوز‘آپ کی روایات‘ ہیروز‘ ہیروئنیں‘ گلوکار‘ آلات موسیقی‘ فیشن اور ٹیکنالوجی رخصت ہو چکی ہوتی ہے‘ آپ کے بچوں کے بچے بھی جوان ہو چکے ہوتے ہیں اور انہیں آپ میں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی‘ آپ خود سوچیں آپ کی بہو کی بہو یا داماد کے داماد کو آپ میں کیا دل چسپی ہو گی؟ انہیں تو آپ کی ذات میں ثواب بھی نظر نہیں آئے گا پھر ستر کی دہائی سے آگے نکلنے کا کیا فائدہ؟ چناں چہ زندگی صرف وہی ہے جو آپ اور میں گزار رہے ہیں اور اس کے خاتمے میں زیادہ وقت نہیں بچا‘ بس آٹھ بجنے والے ہیں اور اگر زندگی آٹھ بجے کے بعد بھی جاری رہی تو اس زندگی کے لیے توانائی کہاں سے آئے گی‘ میں اگر لکھنا چاہتا ہوں تو میں لکھنے کے لیے توانا اور مضبوط ہاتھ اور فوکس دماغ کہاں سے لائوں گا‘ میں اگر پڑھنا چاہتا ہوں تو میں چمکتی دمکتی اور دیکھتی آنکھیں کہاں سے لائوں گا‘ میں اگر ورزش کرنا چاہتا ہوں تو میں وزن اٹھانے والے مسلز کہاں سے لائوں گا‘ میں اگر نئے کھانے ٹرائی کرنا چاہتا ہوں‘ میں اگر کوبے سٹیک‘ ارجنٹائن کی گائے کا گوشت ‘ نیوزی لینڈ کے جنگلوں کا شہد اور میکسیکو کے سٹیکس انجوائے کرنا چاہتا ہوں تو میں انہیں ہضم کرنے کا معدہ کہاں سے لائوں گا‘ منہ کے مرے ہوئے ٹیسٹ بڈز کو دوبارہ زندہ کیسے کروں گا‘ میں اگر دنیا دیکھنا چاہتا ہوں اور میری جیب میں پیسہ بھی ہے تو بھی سوال یہ ہے میں برفوں‘ صحرائوں‘ جنگلوں اور سمندروں میں اترنے کا جذبہ‘ ٹانگیں‘ پھیپھڑے اور دل کہاں سے لائوں گا؟ یہ سارے اثاثے عارضی ہوتے ہیں اور یہ ایک ایک کر کے انسان کا ساتھ چھوڑتے چلے جاتے ہیں‘ میں نے پچھلے ہفتے ڈاکٹر سے شکایت کی ڈاکٹر صاحب میں پچھلے سال تک چالیس چالیس کلو کے ڈمبلز اٹھا لیتا تھا‘ اب بمشکل تیس کلو وزن اٹھاپاتا ہوں‘ ڈاکٹر نے ہنس کر جواب دیا‘ شکر کریں جاوید صاحب اگلے سال آپ شاید پندرہ کلو بھی نہ اٹھا سکیں‘ میں نے تین سال قبل استنبول میں پیدل 45 ہزرا سٹیپس کیے تھے‘ سلطان احمد کے علاقے سے تقسیم تک چلتا ہوا آیا تھا اور تھکاوٹ کا دور دور تک کوئی آثار نہیں تھا لیکن پچھلے ہفتے کین کون گیا تو بارہ ہزارا سٹیپس کے بعد ہی میرا انگ انگ دکھنے لگا‘ آخر ان تین برسوں میں کیا فرق آ گیا؟ اس فرق کو عمر کہتے ہیں‘ میں 16 اعشاریہ 8 فیصد لوگوں کے قریب پہنچ چکا ہوں لہٰذا جسم اب جذبے کا ساتھ نہیں دے پا رہا اور یہ دنیا کی تلخ ترین حقیقت ہے اور میں اگر اب بھی زندگی کو آٹھ بجے کے فیز میں رکھ کر نہیں گزارتا تودنیا میں مجھ سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…