لکڑی کا تختہ
خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق ہوتا ہے ‘ لکڑی پانی میں تیرتی ہے جب کہ لوہا فوراً ڈوب جاتا ہے۔
خوش قسمت انسان لکڑی کی طرح مصائب‘ مسائل اور پریشانیوں میں تیرتا رہتا ہے‘مسائل اور پریشانیاں اس کے اردگرد‘ اس کے دائیں بائیں ‘ اوپر نیچے بہتی رہتی ہیں لیکن یہ ان کی سطح پرتیرتا رہتا ہے‘ یہ ان کی اتھاہ گہرائیوں میں نہیں ڈوبتا جب کہ بدقسمت شخص لوہے کی کیل کی طرح چند لمحوں میں مسئلوں کے پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ بدقسمت شخص کے بارے میں عربی کی بڑی شان دار کہاوت ہے‘ عرب کہتے ہیں انسان پر جب بدقسمتی کے سائے آتے ہیں تو یہ اونٹ پر بھی بیٹھا ہو تو اسے کتا کاٹ لیتا ہے۔اسی طرح ہندی میں بدقسمت شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ سونے کو بھی ہاتھ لگائے تو وہ مٹی ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں محاورے درست ہیں کیوںکہ بدقسمتی کے دور میں ہر خوشی‘ ہر کام یابی اور ہر اچھائی الٹ ہو جاتی ہے‘ بدقسمت شخص کا چاند تک جوہڑ سے طلوع ہوتا ہے اور اس کے گلابوں سے بھی گوبر کی بو آتی ہے‘ وہ بے چارہ حدیث بھی سنائے تو لوگ منہ پھیر لیتے ہیں‘ اس کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور وہ مسائل اور پریشانیوں کے لق و دق صحرا میں خشک ٹہنی کی طرح یک وتنہا کھڑا ہوتا ہے‘ اس کے اوپر اور نیچے دونوں طرف آگ دہک رہی ہوتی ہے اور اس لمحے وہ دائیں بائیں‘ اوپر نیچے دیکھ کر قدرت سے صرف ایک سوال کرتا ہے ’’یاپروردگار میں کیا کروں؟‘‘ یہ دنیا کا قیمتی ترین سوال ہے اور ہم میں سے ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی اس نقطے پر ضرور آتا ہے۔ بعض لوگوں کی زندگی میں یہ سوال بجلی کے شعلے کی طرح آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور بعض کی زندگی میں یہ سوال سکینڈے نیوئن ملکوں کی راتوں کی طرح طویل ہو جاتا ہے اور انسان کی سانسیں امید اور نا امیدی کی منڈیر سے لٹکی رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے بدقسمتی کے اس لمحے انسان کیا کرے؟ اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں قدرت کے نظام کو سمجھنا ہوگا ۔
قدرت کے نظام میں ہر چیز دوسری چیز سے توانائی حاصل کر تی ہے‘ جان داروں کے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن اور پانی ضروری ہے‘ پانی اور آکسیجن کے لیے سورج کی روشنی ضروری ہے‘ سورج کی روشنی
پیدا کرنے کے لیے جلنے والی گیسیں چاہییں اور گیسوں کی پیدائش کے لیے کسی ان دیکھی کہکشاں کے کیمیائی ری ایکشن ضروری ہوتے ہیں۔ اسی طرح پودوں کو جانور کھاتے ہیں‘ جانوروں کو انسان کھاتا ہے‘ انسان کا جسد خاکی کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کی باقیات پودے چٹ کر جاتے ہیں۔ غرض کائنات کی تمام اکائیاں ایک دوسرے کی محتاج ہیں۔ ہمارا مقدر بھی کسی نہ کسی دوسرے شخص سے جڑا ہوتا ہے ۔ ہماری خوش قسمتی اور بدقسمتی دونوں دوسرے لوگوں سے وابستہ ہوتی ہیںچناںچہ انسان جب بھی بدقسمتی کے گرداب میں پھنسے تو اسے چاہیے یہ کسی دوسرے خوش قسمت شخص کا سہارا لے لے بالکل لوہے کی اس کیل کی طرح جو ڈوبنے سے بچنے کے لیے لکڑی کے تختے میں پیوست ہو جاتی ہے۔بدقسمت انسان کیل کی طرح لکڑی کے تختے کا حصہ بن کر مسائل کے سمندر میں تیر سکتا ہے‘ ہم سب کو بدقسمتی کے دور میں تین حقیقتیں ذہن میں رکھنی چاہییں۔ ایک‘ دنیا میںکوئی چیز‘ کوئی صورت حال اور کوئی حالت مستقل نہیں ہوتی‘ دنیا کی ہر چیز میں تبدیلی آتی ہے‘ رات خواہ کتنی ہی لمبی اور دن خواہ کتنا ہی چمک دار کیوں نہ ہو یہ دونوںبالآخر ختم ہو جاتے ہیںاور بدبو خواہ کتنی ہی ناقابل برداشت کیوں نہ ہو‘ یہ بھی ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ خوش قسمتی کی طرح بدقسمتی بھی عارضی ہوتی ہے اور یہ بالآخر ختم ہو جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے اس کا دورانیہ کتنا لمبا ہو سکتا ہے؟۔ہندی نجومیوں کے مطابق بدقسمتی کا دورانیہ عموماً اڑھائی سال سے ساڑھے سات سال تک ہوتا ہے اور بدقسمتی کے نوے فیصد کیسوں میں ساڑھے سات سال بعد صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے جب کہ یورپین ماہرین انسان کی زندگی کواٹھائیس‘ اٹھائیس برسوں کے تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں ‘ ان کے مطابق دنیا کے ہر انسان (اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو) کی زندگی میں اٹھائیس سال بعد بڑی نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے‘ یہ تبدیلی بعض اوقات اگلی نسل میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں ایک نسل کسمپرسی میں زندگی گزارتی ہے اور اگلی نسل کی شروعات ہی خوش حالی اور کام یابی سے ہوتی ہے‘ اگلی نسل اسے اپنی کام یابی سمجھتی ہے
لیکن حقیقت میں یہ پچھلی نسل کی بدقسمتی کا ’’ریوارڈ‘‘ ہوتا ہے چناںچہ انسان کو چاہیے یہ اس عارضی بدقسمتی کو عارضی ہی سمجھے۔ دو‘ انسان کو چاہیے یہ لوہے کی کیل کی طرح کسی لکڑی کا سہارا لے لے‘ یہ خوش قسمت لوگ تلاش کرے‘ اپنا زیادہ تر وقت ان کی صحبت میں گزارے‘ ان کے ساتھ پارٹنر شپ کر لے‘ انہیں اپنا حصہ دار بنا لے یا پھر ان کی ملازمت اختیار کر لے اور یہ سوچ لے حالات خواہ کتنے ہی گھمبیر اور خوف ناک کیوں نہ ہو جائیں میں نے اس شخص کا ساتھ نہیں چھوڑنا‘ یہ شخص مجھے روز دھکے دے کر نکالے لیکن میں اگلے دن دوبارہ اس کے پاس پہنچ جائوں گا‘ یہ تکنیک مشکل ہے کیوںکہ بدقسمتی کے دورمیں انسان کی تذلیل معمول ہوتی ہے لیکن انسان اگر صبر کر لے اور اس سلوک کو چند برسوں کے لیے اپنا مقدر مان لے تو اس کی زندگی میں سکون کے چند لمحے آ سکتے ہیں اور تین‘ خوش قسمتی اور بدقسمتی دونوں صورتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہوتی ہیں چناںچہ انسان کو کثرت سے اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے‘ اس سے مہربانی کی درخواست کرنی چاہیے اور اللہ کے ساتھ پارٹنر شپ کر لینی چاہیے۔ یہ انسان کی دس ہزار سالہ تحریری تاریخ کا فیصلہ ہے‘ چیرٹی کے منصوبے پھیلتے پھولتے بھی ہیں اور ان سے انسان کو سکون بھی ملتا ہے لہٰذا انسان کو اگرکاروبار میں نقصان ہو رہا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کو کاروبار میں شریک کر لے‘ اپنی آمدنی سے چیرٹی کے لیے رقم نکالنا شروع کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ کرم کرتا ہے۔ اسی طرح مقدر کا خواتین کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے‘ ہمارے گھروں میں ہماری کوئی نہ کوئی بہن‘ کوئی نہ کوئی بیٹی خوش قسمت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی کے آثار ان کی پیدائش کے ساتھ ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم لوگ اپنی بدقسمتی کے دور میں اس بیٹی‘ اس بہن پر شفقت کریں‘ اس سے اپنی قربت بڑھا لیں تو بھی ہماری بدقسمتی کی شدت میں کمی آ سکتی ہے۔
میں نے زندگی میںبے شمار لوگوں کو خوش قسمت لوگوں کی پارٹنر شپ‘ چیرٹی کے کاموں میں حصہ لینے‘ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے ‘ اپنے گھر کی خواتین سے شفقت برتنے اور صبر اور شکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے سے بدقسمتی کے دور سے نکلتے دیکھا ہے۔ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ساری زندگی بدقسمتی کے گرداب میں چکر کھاتے رہے لیکن ان کی اگلی نسل کو اللہ تعالیٰ نے مٹی کو سونا بنانے کا فن دے دیا اور لوگ اس خوش قسمت نسل کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے تھے اور میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیںجو پوری زندگی سونے کے چمچ سے کھاتے رہے لیکن ان کی اگلی نسل کو مٹی کا پیالہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ یہ کیا ہے ؟یہ سب مقدر کا ہیر پھیر ہے‘ دنیا میں بنیادی طور پر ایک انسان کی بدقسمتی دوسرے انسان کی خوش بختی ہوتی ہے۔ مقدر گیند کی طرح ہوتا ہے ‘ جس طرح گیند ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتی رہتی ہے بالکل اسی طرح مقدر بھی ہاتھ اور جھولیاں بدلتا رہتا ہے چناںچہ آپ اگر ٹیم کا حصہ ہیں تو یہ گیند کبھی نہ کبھی واپس آپ کے پاس ضرور آئے گی اور اگر نہیں آئے گی تو بھی آپ ’’لوزر‘‘ نہیں ہوںگے کیوںکہ آپ اس خوش قسمت ٹیم کا حصہ ہیں جس کے کسی نہ کسی ممبر کے پاس اس وقت خوش نصیبی کی گیند موجود ہے اوریہ ساتھی آپ کی اگلی نسل کو یہ گیند ضرور دے جائے گاچناںچہ ٹیم کو نہ چھوڑیں‘ صبر کریں اور انتظار کریں‘ مقدر کا پیالہ کبھی نہ کبھی گردش کرتا ہوا آپ کے ہاتھ تک ضرور آئے گا۔ آپ اس وقت موجود نہ ہوئے تو آپ کے بیٹے یا آپ کے کسی عزیز کا ہاتھ اس تک ضرور پہنچے گا کیوںکہ اللہ تعالیٰ کے نظام میں راتیں زیادہ طویل نہیں ہوتیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...
-
چین کا پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون بڑھانے کا اعلان





















































