ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پی 67 نامی دمدار ستارے کے آس پاس گیس مالیکیولر آکسیجن کو دریافت

datetime 30  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) روزیٹا خلائی گاڑی نے پی 67 نامی دمدار ستارے کے آس پاس گیس کے بادلوں میں حیرت انگیز طور پر مالیکیولر آکسیجن کو دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت ان سائنسدانوں کے لیے حیران کن ہے جن کے خیال سے سیاروں کی تخلیق آکسیجین اور دیگر عناصر کے درمیان زبردست رد عمل سے ہوئی ہوگی۔ اس نئی دریافت کے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نظام شمسی کے وجود میں آنے کے متعلق پائے جانے والے موجودہ نظریات غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ نئی تحقیق کی تفصیلات سائنس کے جریدے نیچر میں شائع کی گئی ہیں۔ محققین نے پی 67 دمداد ستارے کے آس پاس کے ماحول کا پتہ کرنے کے لیے خلائی گاڑی روزیٹا میں نصب روزینا کا استعمال کیا۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس ستارے کے آس پاس جو چار چیزیں آسانی سے دستیاب ہیں اس میں، پانی کی بھاپ، کاربن مونواوکسائیڈ اور کاربن ڈائی ایکسائیڈ کے بعد فری آکسیجن ہے۔ اس تحقیق میں شامل بیرین یونیورسٹی کی سائنسدان پروفیسر کیتھرین الٹویگ کا کہنا ہے کہ اس میں شامل سائنسدانوں نے جب پہلی بار ڈیٹا کو دیکھا تو انہیں لگا کہ شاید یہ نتائج غلط ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ نظام شمسی کے بننے کی ابتدا میں ہی آکسیجن بڑی جلدی سے جم گئی ہوگئی اور مختلف مادوں کے جھنڈ میں پھنس گئی ہوگی۔ سورج کے ارد گرد بہت سے سیاروں اور دمدار ستاروں کے بننے سے متعلق جو موجودہ نظریات ہیں اس کے مطابق یہ عمل اتنا متشدد تھا کہ جمی ہوئی آکسیجن پہلے پگھلی ہوگی پھر دوسرے عناصر سے اس کا ردعمل ہوا ہوگا لیکن اس نئی دریافت سے تو ایسا لگتا ہے کہ نظام شمسی کے بننے کا عمل کافی پر سکون رہا ہوگا۔ اس تحقیق کو لکھنے والے مشیگن یونیورسٹی کے اینڈر بیلر کہتے ہیں اگر سیارے کے بننے کی شروعات میں ہی ہمارے پاس او2 تھی تو پھر اتنے دن تک یہ بچی کیسے رہی۔ تمام طرح کے طریقہ کار یہی کہتے ہیں کہ اتنی مدت تک تو نہیں رہ سکتی، جو ہمیں نظام شمسی کے بننے سے متعلق کچھ بتاتی ہے، ان برف کے دانوں کے بننے کا عمل پر سکون رہا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا اب ہمارے پاس شواہد ہیں کہ اس سیارے کے اہم اجزا نظام شمسی کے بننے کے وقت بھی محفوظ رہے۔ پی 67 پر اترنے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کو اس کے ’مدر شپ‘ روزیٹا نے گذشتہ برس نومبر میں روانہ کیا تھا۔ روزیٹا کو اس ستارے پر پہنچنے میں 10 سال لگے اور یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی خلائی جہاز نے کسی ستارے کی سطح پر قدم رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…