اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

’اْوبر‘ ٹیکسی سروس اب پاکستان میں بھی شروع کرنے کا اعلان

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک)انٹرنیٹ اور موبائل فون ایپلیکیشن کے ذریعے ٹیکسی کی بکنگ کی بین الاقوامی سروس ’اْوبر‘نے لاہور میں اپنی سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔دبئی میں اْوبرکی ترجمان شادن عبدالطیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت اْوبر اپنی سروس کا آغاز صرف لاہور میں کرے گی۔انھوں نے کہا ’لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اور اس کمی کو ہم اپنی سروس کے ذریعے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقامی سرمایہ کاروں سے بات چیت کرنے کے بعد اس سروس کو پہلے لاہور میں ہی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘اْوبر سمارٹ فونز پر ایک ایپ کے ذریعے دستیاب ہے جس پر صارفین اپنا پتا لکھ کر ایک درخواست بھیجتے ہیں۔ ان کی درخواست اس علاقے میں موجود اْوبر کے ڈرائیوروں تک پہنچائی جاتی ہے جو صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔پاکستان میں ذرائع آمد و رفت کی سہولیات کی کمی سامنا تقریباً ہر بڑے چھوٹے شہر میں ہے۔ حالیہ برسوں میں سمارٹ فونز کے استعمال میں بتدریج اضافے کے بعد اب اس ٹیکنالوجی کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال کرنے کا ایک رجحان سامنے آیا ہے جس میں اب بین الاقوامی کمپنیوں نے دلچسپی لینا شروع کی ہے۔پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اوبر ٹیکسی سروس اس وقت خبروں میں آئی جب ٹیکسی سروس کے ڈرائیور پر ایک خاتون کے ساتھ ریپ کا الزام لگا۔ اس واقعے کے بعد اس سروس کو کچھ عرصے کے لیے معطل بھی کر دیا گیا تھا۔ اس پر یہ بھی الزام تھا کہ یہ اپنے ڈرائیوروں کے بارے میں ضروری معلومات رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ٹیکسی میں سفر کے دوران تحفظ کے احساس پر لاہور کی رہائشی اور طالب علم انعم پاشا کے وہ سہولت کو استعمال کریں گی۔’میں اس سروس کو تب استعمال کروں گی جب میں نے کبھی دیر سے رات کو گھر آنا ہو۔ اور اگر ڈرائیور اْوبر پر رجسٹرڈ ہے تب ہی میں اس کی گاڑی میں سوار ہوں گی۔یہ ایک آٹو رکشا میں بیٹھنے سے تو زیادہ ہی محفوظ ہو گا۔‘تاہم کچھ خواتین انعم کی رائے سے اتفاق نہیں کرتی ہیں۔ ان میں رئیل سٹیٹ کے شعبے سے وابستہ ندا میاں کے مطابق وہ اوبر کو استعمال کرنے سے پہلیاس کی کارکردگی کا مشاہدہ کریں گی۔’اس سروس کے آغاز میں تو میں اسے نہیں استعمال کروں گی کیونکہ دہلی کے واقعے کے بعد اس کی سکیورٹی پر مجھے کافی خدشات ہیں۔ میں پہلے ہی عدم تحفظ کی وجہ سے رات کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتی۔ ‘خواتین کے خدشات پر اوبر ٹیکسی سروس کی ترجمان شادن عبدالطیف نے کہا ہے کہ ’ہم ڈرائیورز کو ضروری جانچ پڑتال، ان کا پس منظر اور تمام ضروری دستاویزات دیکھنے کے بعد ہی بھرتی کریں گے۔‘انھوں نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ سفر کرنے والے مسافر پیشگی ہی ٹیکسی کے منزل کی جانب والے راستے کی تفصیلات سے اپنے عزیزوں کو مطلع کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…