ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

’اْوبر‘ ٹیکسی سروس اب پاکستان میں بھی شروع کرنے کا اعلان

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک)انٹرنیٹ اور موبائل فون ایپلیکیشن کے ذریعے ٹیکسی کی بکنگ کی بین الاقوامی سروس ’اْوبر‘نے لاہور میں اپنی سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔دبئی میں اْوبرکی ترجمان شادن عبدالطیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت اْوبر اپنی سروس کا آغاز صرف لاہور میں کرے گی۔انھوں نے کہا ’لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اور اس کمی کو ہم اپنی سروس کے ذریعے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقامی سرمایہ کاروں سے بات چیت کرنے کے بعد اس سروس کو پہلے لاہور میں ہی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘اْوبر سمارٹ فونز پر ایک ایپ کے ذریعے دستیاب ہے جس پر صارفین اپنا پتا لکھ کر ایک درخواست بھیجتے ہیں۔ ان کی درخواست اس علاقے میں موجود اْوبر کے ڈرائیوروں تک پہنچائی جاتی ہے جو صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔پاکستان میں ذرائع آمد و رفت کی سہولیات کی کمی سامنا تقریباً ہر بڑے چھوٹے شہر میں ہے۔ حالیہ برسوں میں سمارٹ فونز کے استعمال میں بتدریج اضافے کے بعد اب اس ٹیکنالوجی کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال کرنے کا ایک رجحان سامنے آیا ہے جس میں اب بین الاقوامی کمپنیوں نے دلچسپی لینا شروع کی ہے۔پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اوبر ٹیکسی سروس اس وقت خبروں میں آئی جب ٹیکسی سروس کے ڈرائیور پر ایک خاتون کے ساتھ ریپ کا الزام لگا۔ اس واقعے کے بعد اس سروس کو کچھ عرصے کے لیے معطل بھی کر دیا گیا تھا۔ اس پر یہ بھی الزام تھا کہ یہ اپنے ڈرائیوروں کے بارے میں ضروری معلومات رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ٹیکسی میں سفر کے دوران تحفظ کے احساس پر لاہور کی رہائشی اور طالب علم انعم پاشا کے وہ سہولت کو استعمال کریں گی۔’میں اس سروس کو تب استعمال کروں گی جب میں نے کبھی دیر سے رات کو گھر آنا ہو۔ اور اگر ڈرائیور اْوبر پر رجسٹرڈ ہے تب ہی میں اس کی گاڑی میں سوار ہوں گی۔یہ ایک آٹو رکشا میں بیٹھنے سے تو زیادہ ہی محفوظ ہو گا۔‘تاہم کچھ خواتین انعم کی رائے سے اتفاق نہیں کرتی ہیں۔ ان میں رئیل سٹیٹ کے شعبے سے وابستہ ندا میاں کے مطابق وہ اوبر کو استعمال کرنے سے پہلیاس کی کارکردگی کا مشاہدہ کریں گی۔’اس سروس کے آغاز میں تو میں اسے نہیں استعمال کروں گی کیونکہ دہلی کے واقعے کے بعد اس کی سکیورٹی پر مجھے کافی خدشات ہیں۔ میں پہلے ہی عدم تحفظ کی وجہ سے رات کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتی۔ ‘خواتین کے خدشات پر اوبر ٹیکسی سروس کی ترجمان شادن عبدالطیف نے کہا ہے کہ ’ہم ڈرائیورز کو ضروری جانچ پڑتال، ان کا پس منظر اور تمام ضروری دستاویزات دیکھنے کے بعد ہی بھرتی کریں گے۔‘انھوں نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ سفر کرنے والے مسافر پیشگی ہی ٹیکسی کے منزل کی جانب والے راستے کی تفصیلات سے اپنے عزیزوں کو مطلع کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…