اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے ایک ایسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کا پیٹنٹ حاصل کر لیا ہے
جو کسی صارف کے انتقال کے بعد بھی اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو فعال رکھ کر پوسٹس شیئر اور گفتگو جاری رکھ سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ پیٹنٹ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں منظور ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ نظام ایک جدید لارج لینگویج ماڈل پر مبنی ہے جو صارف کے سابقہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اس کے اندازِ تحریر، ردعمل اور گفتگو کے طریقے کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی ذکر ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف تحریری پیغامات ہی نہیں بلکہ آواز اور ویڈیو کی صورت میں بھی صارف جیسا تاثر پیدا کر سکتی ہے۔پیٹنٹ کے مطابق یہ سسٹم صارف کی پسند، عادات اور آن لائن سرگرمیوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر تقریباً اسی جیسا انداز اپنائے گا۔ تاہم کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس ٹیکنالوجی کو عملی طور پر متعارف کرانے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ماہرین اس ایجاد کے اخلاقی پہلوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور بحث جاری ہے کہ اگر کوئی شخص وفات کے بعد بھی ڈیجیٹل دنیا میں متحرک دکھائی دے تو اس کے معاشرتی اور اخلاقی اثرات کیا ہوں گے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض افراد نے حیرت کا اظہار کیا تو کچھ نے اس خیال کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں کو سکون سے رہنے دیا جانا چاہیے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تصور دراصل ’’ڈیجیٹل نقل‘‘ یا سوگ کے لیے بنائے گئے روبوٹ جیسے حساس موضوعات سے جڑا ہوا ہے، جن پر پہلے ہی عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر کوئی اے آئی مرنے کے بعد بھی کسی کے اکاؤنٹ سے بات کرتا رہے تو کیا ٹیکنالوجی کے لیے کوئی حد باقی رہ جاتی ہے؟



















































