اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا نے ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے فوری طور پر ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ایران میں قائم امریکی ورچوئل سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے تیزی سے پھیل رہے ہیں، جو کسی بھی وقت پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے امریکی شہری اپنی سلامتی کو اولین ترجیح دیں۔سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا یا ترکیہ کا رخ کریں اور سفر کے ایسے انتظامات کریں جن میں امریکی حکومت کی براہِ راست مدد شامل نہ ہو۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو افراد ایران چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے، وہ گھروں میں محفوظ مقامات پر رہیں، احتجاجی سرگرمیوں سے دوری اختیار کریں اور خوراک، پانی، ادویات سمیت روزمرہ کی ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ کر لیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی مشیروں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل سفارتی راستے کو موقع دیا جائے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس اس بات پر غور کر رہا تھا کہ آیا ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی پیشکش پر سنجیدگی سے آمادہ ہے یا نہیں، جبکہ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔اسی دوران ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر امریکا میں 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، اور یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔















































