جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے زیادتی کے مقدمہ کو زنا بالرضا میں تبدیل کر دیا، سزا میں کمی

datetime 18  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد ((این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے زیادتی کے ایک مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ریپ کی سزا کو ختم کر کے مقدمہ کو زنا بالرضا میں تبدیل کر دیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے ملزم کو سنائی گئی 20 سال قید کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت کر دی ،5 لاکھ روپے جرمانہ گھٹا کر 10 ہزار روپے مقرر کر دیا، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید 2 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس ملک شہزاد خان کی جانب سے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا تاہم جسٹس صلاح الدین پنھورنے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم کے خلاف کیس ریپ کا نہیں بلکہ رضامندی سے زنا کا بنتا ہے۔عدالت کے مطابق رضامندی سے زنا کی صورت میں مدعیہ بھی سزا کی حقدار ہو سکتی ہیتاہم مدعیہ کا نہ تو چالان ہوا اور نہ ہی ٹرائل کورٹ میں اسے صفائی کا موقع ملااس لیے اپیل کی سطح پر بغیر شنوائی مدعیہ کو سزا نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کو بڑے جرم یعنی ریپ کے بجائے چھوٹے جرم (زنا بالرضا) میں سزا دی جا سکتی ہے۔

فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں درج ہے کہ متاثرہ خاتون صبح 5:30 بجے جنگل میں حاجت کے لیے گئی تھی، جہاں اس کے بقول گھات لگائے بیٹھے ملزم نے پستول کے زور پر زیادتی کی۔ تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر وقوعہ کے تقریباً 7 ماہ بعد درج کی گئی، جبکہ استغاثہ یہ وضاحت دینے میں ناکام رہا کہ ملزم کو کیسے علم تھا کہ مدعیہ مخصوص وقت پر جنگل آئے گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ مدعیہ نے وقوعہ کے وقت مزاحمت نہیں کی، میڈیکل رپورٹ میں تشدد یا زخموں کے نشانات موجود نہیں، متاثرہ خاتون کے کپڑے بطور ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ واقعہ رہائشی علاقے کے قریب پیش آنے کے باوجود نہ شور کیا گیا اور نہ ہی کسی کو مدد کے لیے بلایا گیا۔عدالت کے مطابق مدعیہ نے سات ماہ تک نہ کوئی قانونی کارروائی کی اور نہ ہی اہلخانہ کو واقعے سے آگاہ کیا۔سپریم کورٹ نے ڈی این اے رپورٹ پر حتمی فیصلہ دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے کی صداقت کا معاملہ کسی دوسرے کیس میں طے کیا جائے گا۔عدالت نے نوٹ کیا کہ ڈی این اے سیمپلز ڈیڑھ سال بعد لیے گئے جبکہ میڈیکل ریسرچ پر مبنی جریدوں کے مطابق درست نتیجہ دو ہفتوں کے اندر حاصل کیا جا سکتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ مدعیہ کے بیان اور میڈیکل شواہد سے جنسی تعلق قائم ہونا ثابت ہوتا ہے، تاہم شواہد کی بنیاد پر زبردستی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ جسٹس صلاح الدین پنھورنے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ یہ ایک ریپ کا کیس ہے اور ملزم کی سزا برقرار رہنی چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے معاشرے میں زیادتی اور ہراسانی کے اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ خواتین سماجی دباؤ، بدنامی اور دھمکیوں کے باعث خاموش رہتی ہیں۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ خاتون غیر شادی شدہ، کم عمر اور یتیم تھی جبکہ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود ہیں اس لیے ایف آئی آر میں تاخیر کو اس کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے سپریم کورٹ کے سابق فیصلوں عرفان علی شیر کیس، محبوب احمد کیس اور زاہد کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریپ جیسے مقدمات میں تاخیر استغاثہ کے لیے مہلک نہیں سمجھی جا سکتی۔جسٹس پنہور نے کہا کہ اگر ملزم کے پاس اسلحہ ہو تو متاثرہ خاتون کی جانب سے مزاحمت نہ کرنا فطری امر ہے جبکہ سات ماہ بعد میڈیکل معائنے میں جسمانی تشدد کے نشانات کا نہ ملنا غیر معمولی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…