جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف ابڑو کا مستعفی ہونے کا اعلان

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک ) سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے بعد ایوان بالا نے آئین میں متعدد اہم تبدیلیوں کو حتمی شکل دے دی۔تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک دی، تاہم اس موقع پر تحریک انصاف کے اراکین نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے آ کر شدید احتجاج کیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو احتجاج میں شامل نہیں ہوئے اور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ جب ووٹنگ کا مرحلہ آیا تو وہ ترمیم کے حق میں کھڑے ہوگئے۔ اسی طرح جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے بھی تحریک کی حمایت میں ووٹ دیا۔ذرائع کے مطابق، سینیٹ کے 64 اراکین نے ترمیم کی 59 شقوں کی منظوری مرحلہ وار دی۔

ووٹنگ کے دوران ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر حصہ لیتے رہے۔بعد ازاں، 27ویں آئینی ترمیمی بل کو حتمی منظوری کے لیے دوبارہ ایوان میں پیش کیا گیا، جس پر ارکان نے لابیز میں جا کر حق اور مخالفت میں ووٹ دیا۔ نتیجے میں 64 ووٹ ترمیم کے حق میں آئے جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے رولنگ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ “27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کرلیا گیا ہے۔”ترمیم کی منظوری کے بعد سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ایوان سے غیر حاضر ہوگئے۔منظور شدہ ترمیم کے مطابق، صدرِ مملکت کو تاحیات اور گورنرز کو اپنی مدت کے دوران کرمنل کارروائی سے استثنا حاصل ہوگا۔ کسی عدالت کو صدر یا گورنر کے خلاف گرفتاری کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہوگا۔

تاہم صدر پر یہ استثنا اس وقت لاگو نہیں ہوگا جب وہ صدارتی مدت کے بعد کسی عوامی عہدے پر فائز ہو جائیں۔آئینی ترمیم میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی، جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کم از کم ایک جج شامل کیا جائے گا، تاہم اسلام آباد کے ججز کی تعداد صوبوں کے ججز سے زیادہ نہیں ہوگی۔ترمیم کے مطابق آئینی عدالت ازخود نوٹس صرف اس وقت لے سکے گی جب اس کے لیے کوئی شہری درخواست جمع کروائے۔ اسی طرح، ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی کا اختیار اب جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوگا۔ اگر کوئی جج تبادلے سے انکار کرے تو اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکے گا، اور اسے اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…