اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

اٹلی میں پادریوں کی جانب سے 4400 بچوں کے ساتھ زیادتی کا انکشاف

datetime 25  اکتوبر‬‮  2025 |

میلان(این این آئی )اٹلی میں کیتھولک چرچ کے پادریوں کی جانب سے ہزاروں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے چونکا دینے والے واقعات سامنے آئے ہیں۔متاثرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ریٹے ل ابوزونے انکشاف کیا ہے کہ 2020 کے بعد سے اب تک تقریبا 4,400 متاثرین کو چرچ سے وابستہ مذہبی شخصیات نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تنظیم کے بانی فرانسسکو زاناردی نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار متاثرین کے بیانات، عدالتی ذرائع اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان واقعات کا آغاز کب سے ہوا، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ زیادہ تر الزامات چرچ کے پادریوں پر عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1,250 مبینہ زیادتی کے کیسز کی نشاندہی کی گئی جن میں 1,106 پادریوں کو ملوث قرار دیا گیا ہے جبکہ باقی کیسز راہب خواتین ، مذہبی اساتذہ، عام رضاکاروں اور سکاٹ اراکین سے متعلق ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 4,625 متاثرین سامنے آئے ہیں، جن میں سے 4,395 پادریوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوئے، ان میں سے 4,451 متاثرین کی عمریں 18 سال سے کم تھیں، جب کہ زیادہ تر متاثرین (تقریبا 4,100) لڑکے تھے، پانچ راہبائیں، 156 کمزور بالغ افراد اور 11 معذور افراد بھی اس خوفناک سلسلے کا شکار بنے۔تنظیم کے مطابق 1,106 مبینہ مجرم پادریوں میں سے صرف 76 پادریوں پر چرچ کے اندر مقدمہ چلایا گیا، ان میں سے 17 کو عارضی طور پر معطل کیا گیا، سات کو دوسرے مذہبی علاقوں میں منتقل کیا گیا، جب کہ صرف 18 کو معزول یا برطرف کیا گیا، پانچ پادریوں نے خودکشی بھی کی۔

کیتھولک چرچ کی اعلی تنظیم اٹالین بشپ کانفرنس نے اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل نہیں دیا تاہم ویٹی کن کے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن نے حال ہی میں اٹلی کے چرچ حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا، کمیشن کے مطابق اٹلی کے 226 ڈائیوسیز میں سے صرف 81 نے بچوں کے تحفظ سے متعلق سوالنامے کا جواب دیا۔نئے پوپ لیو نے رواں ہفتے پہلی بار مذہبی رہنماں کے ہاتھوں جنسی تشدد کے شکار افراد سے ملاقات کی اور نئے بشپس کو ہدایت دی کہ چرچ کے اندر ہونے والی زیادتیوں کو کبھی نہ چھپایا جائے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کیتھولک چرچ ایسے سنگین الزامات کی زد میں آیا ہو، پچھلی کئی دہائیوں سے امریکا، فرانس، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی پادریوں کے ہاتھوں بچوں پر جنسی تشدد کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، لیکن اٹلی میں چرچ قیادت اس مسئلے کو تسلیم کرنے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…