پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ریکوڈک منصوبے کیلئے 6بین الاقوامی اداروں سے مالی معاہدہ طے پاگیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان کا بلوچستان کے تاریخی ریکوڈک منصوبے کیلئے 6بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ساڑھے 3ارب ڈالرز کا فنانسنگ معاہدہ طے پا گیاہے ۔ذرائع کے مطابق ریکوڈک منصوبے کیلئے جن 6بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہے ان میں یو ایس ایگزم بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، انٹرنیشنل فنانشل انسٹیٹیوشنز، انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن اور یورپین بینک شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ ادارے آئندہ 45سے 90دنوں میں شرائط پوری کرنے کے بعد فنانسنگ کا عمل شروع کریں گے اور معاہدے کے تحت ڈونرز کو 4سے پانچ سال کا گریس پیریڈ جبکہ قرض کی واپسی 12سال میں مکمل کرنا ہوگی۔معاہدے کے تحت فنانسنگ پر شرح سود سنگل ڈیجٹ میں رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اگر شرائط پر عمل درآمد تیزی سے مکمل ہوا تو دو ماہ کے اندر پہلی قسط بھی جاری ہو سکتی ہے، فنانسنگ معاہدے میں بیرک گولڈ، حکومت بلوچستان، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل بطور شراکت دار شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ بیرک گولڈ کا 55فیصد ایکویٹی مارجن، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کا 27.7فیصد اور حکومت بلوچستان کا 16.6 فیصد ایکویٹی مارجن مقرر کیا گیا ہے اور منصوبے کی مجموعی لاگت 7.7ارب ڈالرکے لگ بھگ ہے ،جبکہ پہلی پروڈکشن 2028کے آخر تک شروع ہونے کا امکان ہے۔ریکوڈک منصوبے سے پاکستان کو 53ارب ڈالرز کی آمدنی متوقع ہے، جن میں سے 11ارب ڈالر بلوچستان کیلئے فسکل ریونیو، 6ارب ڈالر صوبائی حصہ، 9ارب ڈالر بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ کی ایکویٹی، 11ارب ڈالرز وفاقی حکومت کیلئے فسکل ریونیو اور 15ارب ڈالر پی ایم پی ایل کے ایکویٹی انفلوز شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ منصوبے کی بدولت ہمائی، مشکی چاہ، نوک چاہ اور دربان چاہ میں پینے کے پانی کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، سات پرائمری اسکول معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، ریکوڈک کے تعمیراتی مرحلے میں ساڑھے سات ہزار افراد کو روزگار ملے گا اور پیداواری مرحلے میں ساڑھے تین ہزار مستقل ملازمین اور ٹھیکیدار خدمات انجام دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…