ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

نریندر مودی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد زیر زمین انتہا پسند وں کو باہر آنے کا موقع ملا ہے‘ خورشید قصوری

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ اگر انتہا پسندی کی صورتحال بر قرار رہی تونریندر مودی کے بھارت میں ترقی کے وعدے کبھی پورے نہیں ہو سکیں گے ،نریندر مودی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد زیر زمین انتہا پسند وں کو باہر آنے کا موقع ملا ہے ،بھارتی وزیر اعظم نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے آگے جانا ہے یا بر صغیر کو ڈیڑھ، دو سال پیچھے لے کر جانا ہے۔ ایک انٹر ویو میں خورشید محمود قصوری نے کہا کہ انتخابات میںنریندری مودی کو اکثریت نہیں ملی بلکہ انہیں 32سے 33فیصد ووٹ ملے ہیں ۔بھارت میں آج سب کہہ رہے ہیں کہ انتہا پسند دوسروں کا نہیں بلکہ اس جمہوریت کا منہ کالا کر رہے ہیں جس کی بڑی چمک دکھائی جاتی ہے ۔ بھارت میں میرے ہوتے ہوئے 40نامور شخصیات ایوارڈز واپس کر چکی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو سوچنا چاہیے کہ وہ ایک ملک کے وزیر اعظم ہیں انہیں اپوزیشن لیڈر نہیں بننا چاہیے ۔ دارالحکومت میں انتہا پسند ہندوﺅں کا اقدام خطرناک ہے اور اس سے بھارت کی جمہوریت کی چمک اتر گئی ہے اور وہ تاریخ میںناکام وزیر اعظم تصور کئے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم او یوز پر دستخط کرنا اوربات ہے جبکہ انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سرمایہ کار ی لانا الگ معاملہ ہے ،بھارت میں مسلمانوں سمیت کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت ڈرا دھمکا کر پاکستان کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرسکا ہے اور نہ کر سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جس طرح کے اقدامات ہو رہے ہیں اس سے عوام میں بھی اشتعال آرہا ہے ۔ مودی سرکاری فیصلہ کرے انہوں نے بھارت کو آگے لیجانا ہے یا وہ برصغیر کو ڈیڑھ دو سال سے پیچھے لے کر جانا چاہتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…