اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

غیرت کے نام پر قتل خاتون کی والدہ کا متنازعہ بیان، بیٹی کی ‘سزا’ درست قرار دیدی، ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

datetime 23  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون بانو کی والدہ نے اپنی ایک ویڈیو میں قتل کو روایتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے “جائز سزا” کا نام دیا ہے۔ویڈیو بیان میں خاتون نے اپنا نام گل جان بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مقتولہ بانو کی حقیقی والدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو شک ہے تو ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ سچ کہہ رہی ہیں اور جھوٹ بولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔گل جان کے مطابق بانو پانچ بچوں کی ماں تھی اور وہ کوئی کم عمر یا ناسمجھ لڑکی نہیں تھی۔

انہوں نے بچوں کے نام اور عمریں بھی گنوائیں: نور احمد (18 سال)، واسط (16 سال)، فاطمہ (12 سال)، صادقہ (9 سال) اور سب سے چھوٹا ذاکر (6 سال)۔خاتون نے انکشاف کیا کہ بانو کا ہمسایہ احسان اللہ کے ساتھ تعلق تھا، جس کے ساتھ وہ مبینہ طور پر 25 دن تک غائب رہی۔ ان کے مطابق بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے واپس قبول کر لیا تھا، مگر احسان اللہ نے مبینہ طور پر ہراسانی بند نہ کی۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احسان اللہ ان کے اہلِ خانہ کو ویڈیوز بھیج کر اشتعال دلاتا تھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ گل جان کا کہنا تھا کہ یہ سب ان کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکا تھا، اسی لیے جو قدم اٹھایا گیا وہ اُن کے بقول “روایتی غیرت کے تقاضوں کے تحت” تھا۔

ویڈیو میں گل جان نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے عمل کو بلوچ روایات کے مطابق درست قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا کہ گرفتار سردار شیر باز ساتکزئی سمیت دیگر افراد کو رہا کیا جائے کیونکہ ان کے بقول فیصلہ جرگے کے مطابق کیا گیا تھا نہ کہ کسی فردِ واحد کے کہنے پر۔یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب بلوچستان حکومت نے اس دوہرے قتل کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سخت کارروائی کی ہے اور سردار شیر باز سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…