جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

وہ جزیرہ جہاں دنیا کی پہلی اے آئی حکومت قائم کی گئی ہے

datetime 19  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک جدید اور منفرد قدم کے طور پر ایک نجی کمپنی نے فلپائن کے قریب واقع ایک جزیرے پر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی) پر مبنی دنیا کی پہلی حکومت قائم کر دی ہے۔

یہ جزیرہ، جسے پہلے “Cheron آئی لینڈ” کہا جاتا تھا، اب “سنسے آئی لینڈ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نام اس کمپنی نے رکھا ہے جس نے اس جزیرے کو خریدا۔ سنسے کمپنی کا شمار ان اداروں میں ہوتا ہے جو تاریخی شخصیات کی ڈیجیٹل ہم شکلیں تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔

اس منفرد جزیرے میں قائم اے آئی حکومت میں تاریخ کے ممتاز رہنماؤں کی ڈیجیٹل شخصیات کو حکومتی عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ رومن شہنشاہ مارکوس اوریلیوس کو صدر، برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کو وزیراعظم، چینی فوجی ماہر سن زو کو وزیر دفاع اور جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا کو وزیر انصاف مقرر کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام ڈیجیٹل کرداروں کو ان کی اصل زندگی، خیالات، فلسفے اور تحریروں کی بنیاد پر تربیت دی گئی ہے، تاکہ وہ فیصلہ سازی میں ان جیسا طرزِ عمل اختیار کریں۔

مجموعی طور پر اس حکومت کی کابینہ میں 17 تاریخی شخصیات کی ڈیجیٹل شکلیں شامل کی گئی ہیں۔ سنسے کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت شفاف، مؤثر اور غیر جانب دار پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اے آئی پر مبنی حکومت سیاسی مفادات سے آزاد ہوگی، اس میں تاخیر نہیں ہوگی اور فیصلے صرف عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے۔

یہ جزیرہ تقریباً 3.4 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں ساحلی علاقے، برساتی جنگلات اور قدرتی خوبصورتی موجود ہے۔ اگرچہ گوگل میپس پر اسے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن وہاں کا انفرااسٹرکچر محدود ہے اور انٹرنیٹ یا وائی فائی کی سہولت کی عدم دستیابی کا امکان ہے۔

جزیرے کی سیاحت کے شوقین افراد سنسے آئی لینڈ کی ویب سائٹ پر اس کی “ٹورازم منیجر” Marisol Reyes سے بھی بات چیت کر سکتے ہیں، جو کہ خود بھی ایک اے آئی پر مبنی کردار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جزیرے پر آکر نہ صرف ایک جدید حکومت کا تجربہ کیا جا سکتا ہے بلکہ فلپائنی ثقافت کی روایتی مہمان نوازی سے بھی لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

ان افراد کے لیے جو جزیرے پر نہیں آ سکتے، ایک دلچسپ موقع یہ بھی ہے کہ وہ “ای-ریزیڈنٹ” کے طور پر خود کو رجسٹر کر سکتے ہیں۔ اس حیثیت سے وہ نئی پالیسیاں تجویز کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں۔

سنسے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو، ڈین تھامسن کے مطابق یہ منصوبہ مصنوعی ذہانت کو ایک مثبت اور ذمہ دارانہ سمت میں لے جانے کی اُن کی کوششوں کی علامت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…