جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سندھ نے ملک بھرمیں صرف دو سال میں بجلی کی قلت ختم کرنے کا فارمولہ پیش کردیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سب مل کر تھر پر سرمایہ کاری کریں تو دو سو سال کے لیے بجلی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں،سندھ کے سینئر وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے وفاق کو پاکستان اسٹیل ملز کے لیے زمین کم قیمت پر دی تھی لہٰذا نجکاری سے قبل وفاق کو سنجیدگی سے سندھ حکومت سے بات کرنا ہو گی۔مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کی خریداری سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔ نجانے وفاق میں بیٹھ کر ایسی باتیں کیوں کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اسٹیل ملز کی زمین سندھ حکومت نے سبسڈائز ریٹ پر دی تھی لہذا نجکاری سے قبل وفاق کو سنجیدگی سے سندھ حکومت سے بات کرنا ہو گی۔ وزیر خزانہ سندھ نے ایل این جی کی درآمد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے اندھیرے دور نہیں ہونگے۔ایل این جی منصوبہ یا کوئی اور طریقہ کار بجلی کی قلت دور نہیں کرسکتا۔ سب مل کر تھر پر سرمایہ کاری کریں تو دو سو سال کے لیے بجلی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ مراد علی شاہ نے سندھ میں ترقیاتی منصوبوں میں تاخیرکی ذمہ داری وفاق پر ڈالتے ہوئے کہاکہ صوبے میںجاری بیشتر ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کی ذمہ داربھی وفاقی حکومت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…