پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

اے این پی نے کالاباغ ڈیم کوعمران خان اور شہباز شریف کی سازش قراردیدیا،انتہائی اقدام کی دھمکی

datetime 16  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اگر ہمارے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں پر اپنے بورڈز لگانا اور ان کا افتتاح کرنا تبدیلی ہے تو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت یہ کام بہت اچھے طریقے سے سر انجام دے رہی ہے تاہم شرم کی بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے کئی برس گزرنے کے باوجود تبدیلی والی سرکار صوبے میں اپنے طور پر کوئی ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہ کر سکی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبہ ترقی کی بجائے پسماندگی کی راہ پر گامزن ہے۔ وہ جمعہ کے روز باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے مرحوم لیڈر اور سابق صوبائی وزیر ارباب ایوب جان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس سے دوسروں کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، ضلعی صدر ملک نسیم خان اور ارباب ایوب جان کے سیاسی جانشین ارباب عثمان نے بھی خطاب کیا۔ تعزیتی ریفرنس میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ مقررین نے مرحوم ارباب ایوب جان کی سیاست ، خدمت اور کردار کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی موت کو صوبے کیلئے بڑا نقصان قرار دے دیا۔ صدارتی خطاب میں حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ الیکشن سے پہلے اور اس کے دوران جس طریقے سے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر کے ہمیںدیوار سے لگایا گیا، اُس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے باوجود ہم میدان میں ڈٹے رہے اور صوبے کے حقوق اور مفادات کیلئے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مو ¿ثر آواز اُٹھاتے رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انہی حالات سے فائدہ اُٹھاتے اتفاقاً تو حکومت میں آگئی تاہم بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اس پارٹی کی حکومت نے صوبے اور عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج تک جتنے بھی منصوبوں پر اپنے بورڈز لگائے گئے ہیں ان میںزیادہ تر اے این پی کے دور حکومت میں شروع کرائے گئے تھے۔ اگر دوسروں کے منصوبوں پر تختیاں لگانا ہی تبدیلی ہے تو یہ تبدیلی پی ٹی آئی کو مبارک ہو تاہم وقت آنے پر عوام خود ان سے پوچھیں گے کہ ان کے تبدیلی کے دعوے کہاں گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم ٹھوس شواہد اور حقائق کی بنیاد پر صوبے کی تباہی کا منصوبہ ہے اور جو لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں وہ صوبے کے علاوہ وفاق پاکستان کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہم پھر سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت اس ڈیم کو بننے نہیں دینگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے جو منصوبے ہم نے اپنے دور میں شروع کرائے تھے ان پر کام تیز کر کے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا ایشو شہباز شریف اور عمران خان نے پنجاب کے مخصوص حالات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے اُٹھایا ہے تاہم اس سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ ارباب ایوب جان صوبے کی سیاست کے درخشندہ اور مثالی کردار تھے اور اے این پی کی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے۔ ان کی خلاءکو پورا نہیں کیا جا سکتا تاہم ان سمیت دیگر لیڈروں کے افکار کو ہم آگے بڑھائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی ناکام پالیسیوں ، غیر سنجیدگی اور نا اہلی کے باعث صوبے کے عوام کو بری طرح مایوس کر دیا ہے۔ جس بلدیاتی نظام پر یہ لوگ فخر کیا کرتے تھے اُس نظام کو موجودہ حکومت اختیارات منتقل نہیں کر رہی اور اس میں ہچکچاہٹ سے کام لے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ قربانیوں اور خدمات سے بھری پڑی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی نہ صرف اس خطے کی مقبول ترین عوامی قوت ہے بلکہ اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری پارٹیوں کے کارکنوں کی بری تعداد بھی روزانہ کی بنیاد پر پارٹی میں شامل ہو رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…