جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں ٹمبر مارکیٹ آگ کی لپیٹ میں، کروڑوں کا نقصان، یہ سانحہ کیسے ہوا؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 28  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔ٹمبر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر تقریباً11 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا ،آتشزدگی کے باعث کروڑوں روپے کی لکڑی اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہو گیا ۔پرانا حاجی کیمپ کے قریب سومرو گلی میں لکڑی کے گودام میں ہفتہ کی رات 11 بجے کے قریب لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری ٹمبر مارکیٹ اور قریبی عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائربریگیڈ حکام نے گودام میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیکرشہر بھر سے فائر ٹینڈرز کو طلب کئے اور پوری رات آگ بجھانے میں مصروف رہے ۔ دوسری جانب آگ سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ فائر ٹینڈر کی نا اہلی کی وجہ سے پیش آیا، اگر فائر ٹینڈرز بروقت کارروائی کرتے تو اتنا زیادہ تقصان نہ ہوتا، گھنٹوں سے لگی آگ کے باعث کروڑوں کی لکڑی اور دیگر سامان جل کر راکھ ہو گئی ہے ۔چیف فائر آفسیر احتشام الدین کا کہنا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ فائر ٹینڈر دیر سے پہنچے تھے ، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر موجود تھیں اور آگ بجھانے میں مصروف تھیں لیکن آگ اتنے بڑے پیمانے پر لگی کہ ہماری گاڑیاں نہ ہونے کے برابر محسوس ہو رہی تھیں۔ ٹمبر مارکیٹ کی تنگ گلیوں اورتیز ہوا کی وجہ سے آگ بجھانے میں مشکلات درپیش رہیں لیکن سب سے پہلے آگ کو محدود کیا گیا جسکے بعد اس پرقابو پالیاگیا آگ پر تقریباً11گھنٹے بعد قابو پالیاگیا جسکے بعد کولنگ کا عمل شروع ہو گیا جس میں مزید دو سے تین گھنٹے لگے ۔بتایا گیاہے کہ آگ اس قدر پھیل چکی تھی کہ قریبی رہائشی عمارتوں میں موجود لوگوں نے بمشکل اپنی جان بجائی ، آگ سے متاثرہ گودام کے قریب ایک عمارت میں دو بزرگ افراد کافی دیر تک محصور رہے جنہیں اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا ۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی ختم ہونے کے باعث ایک موقع پر امدادی کارروائی میں تعطل بھی آیا ، آگ لگنے کے کچھ دیر بعد علاقے کی بجلی بھی بند ہوگئی جس سے امدادی کاموں میں مشکلات کاسامنا رہا ۔آگ پھیلتے ہی دیگر افراد نے اپنے گوداموں سے لکڑی اور دیگر سامان نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کردیا ۔اس موقع پر علاقہ مکینوں نے ناقص انتظامات پر کمشنر کراچی شعیب صدیقی پر طنزیہ جملوں سے حملہ کیا اور انہیں خوب برا بھلا کہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…