جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان امریکہ سے ناراض کیوں ہو گیا ،کلک کر کے جانیں

datetime 28  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔۔پاکستانی حکام نے شو ٹائم ٹی وی سیریز ‘ہوم لینڈ’ میں اپنے ملک کو بدنام کرنے پر ناراضی ظاہر کی ہے۔ایک خبر کے مطابق، امریکا میں پاکستان کے سفارتی حکام نے بارہ اقساط پر مشتمل ‘ہوم لینڈ’ کا پورا سیزن فور دیکھا۔سیریز اسلام آباد کے ارد گرد گھومتی ہے اور کلئیر ڈینس سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی آئی) کے نئے اور اہم کردار میں نظر آتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام نے ایمی انعام یافتہ مشہور سیریز کے پروڈیوسرز سے شکایت بھی کی۔پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتیانہ نے روزنامہ نیو یارک پوسٹ سے گفتگو میں کہا ‘امریکا کے اتحادی اور ایک قریبی دوست ملک کو بدنام کرنا ناصرف واشنگٹن کے سکیورٹی مفادات بلکہ امریکی عوام کے خلاف بھی ہے’۔سیریز میں جس طرح پاکستان کے سکیورٹی حکام اور اسلام آباد کو دکھایا گیا، اس پر پاکستانی حکام مایوس ہیں۔ایک ذرائع نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ‘اسلام آباد ایک پرسکون اور ہرا بھرا خوبصورت شہر ہے اس کے برعکس ہوم لینڈ میں دکھایا جانے والیاسلام آباد میں تباہی و بربادی ہے، جہاں ہر طرف فائرنگ اور بم دھماکے اور لاشیں بکھری ہیں۔ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں’۔ہوم لینڈ میں نظر آنے والا اسلام آباد دراصل جنوبی افریقا کے شہر کیپ ٹاؤن میں فلمایا گیا۔حکام اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ سیریز میں پاکستانی حکومت کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے دکھایا گیا۔ایک اور ذرائع نے روزنامہ کو بتایا کہ ہوم لینڈ میں بار بار بتایا گیا کہ پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی شہریوں کی جانوں کی قیمت پر دہشت گردوں کو تحفظ دینے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔’یہ سب نا صرف مضحکہ خیز بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کی قربانی کے بھی مذاق ہے’۔ہوم لینڈ کا موجودہ سیزین گزشتہ اتوار کو ختم ہو گیا اور ہوتیانہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ شو کے پروڈیوسر حقائق کو درست کر لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…