ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

چیمپئنز ٹرافی سے پی سی بی کو کتنا منافع یا نقصان ہوا؟ حیران کن انکشاف

datetime 20  مارچ‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سوشل میڈیا اور دیگر نیوز پلیٹ فارم پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی سی سی فنانشل اینڈ کمرشل ایفیئرز کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی کے ایونٹ آپریشنز کے اخراجات کے طور پر 70 ملین ڈالرز کی منظوری دی تھی۔

پی سی بی کے مطابق ایونٹ آپریشنز کے اخراجات میں کھلاڑیوں و اہلکاروں کی لاجسٹکس، رہائش، فیس، انعامی رقم، نشریات و پروڈکشن وغیرہ شامل ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی کو 6 ملین ڈالرز کی میزبانی کی فیس وصول ہوئی ہے، پاکستان کو گیٹ منی اور مہمان نوازی سے ہونے والی کمائیاں ابھی ملنی ہے۔ذرائع پی سی بی کے مطابق تمام چیمپئنز ٹرافی آپریشنل اخراجات ایونٹ بجٹ سے پورے کیے گئے، پی سی بی کی میزبان فیس سے کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ انفراسٹرکچر بہتر کرنے یا دوبارہ سے بنانے کے لیے اخراجات ہمیشہ میزبان کے ذمہ ہوتے ہیں، احمد آباد اسٹیڈیم کو آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2023 کے آپریشنل اخراجات سے نہیں بنایا گیا تھا۔

پی سی بی کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم بنانا مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری تھی جس طرح فیفا ورلڈ کپ اور اولمپکس میں بھی نظر آتی ہے، عالمی ایونٹس کے لیے برانڈ نیو سہولتیں تخلیق کی جاتی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل کراچی اسٹیڈیم کی آخری اپ گریڈیشن کرکٹ ورلڈ کپ 1996 کے لیے کی گئی تھی جب کہ پاکستان کی میزبانی میں 29 سال بعد ہونیوالے ایونٹ کے لیے ضروری تھا کہ یہ دونوں وینیوز دوبارہ سے ڈیزائن، تعمیر نو یا مرمت کیے جائیں۔ذرائع پی سی بی نے بتایا کہ اسٹیڈیم کی تعمیرات میں خرچہ پی سی بی بجٹ سے کیا گیا، اس بجٹ کی منظوری پی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…