جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی 11 شخصی عادات، اگر آپ کامیابی چاہتے ہیں تو یہ عادات چھوڑ دیں

datetime 28  دسمبر‬‮  2014 |

اگر آپ کو زندگی میں کامیابی کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہے تو دیگر افراد کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے بہتر ہے کہ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ خرابی کہیں وہیں تو چھپی ہوئی نہیں۔

ہمارے اندر ایسی شخصی تباہ کن خامیاں موجود ہوتی ہیں جو زندگی کو کامیابی کے زینے پر چڑھنے سے روکنے کا باعث بنتی ہیں تاہم ان سے دوری آپ کو کامیاب بناسکتی ہے۔

تاخیر پسندی

ٹال مٹول یا تاخیر پسند افراد ہمیشہ ہی درست لمحے، درست حالات کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اپنا اقدام کرسکیں۔ درحقیقت یہ شخصی عادت بدترین ہوتی ہے جو آپ کو مایوسی اور خود ترسی کی راہ پر لے جاتی ہے۔

مراعات پسندی

مراعات یافتہ افراد کامیابی کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں مگر جوش، ثابت قدمی اور سخت محنت کے بغیر کامیابی خواب ہی ثابت ہوتی ہے اور محض زندگی کو مایوسی سے بھرنے کا باعث بنتی ہے۔

قنوطیت

قنوطیت یا یاس پسندی ہمیشہ ہی منفی ثابت ہوتی ہے، درحقیقت یہ عادت ہمیں ہر چیز قسمت کے اوپر چھوڑنے اور خود کو تباہ کرنے کی راہ پر لے جاتی ہے۔

منتشر خیالی

منتشر خیالی ہمیں کسی مشکل سے پہلے ہی پریشانی میں مبتلا کردیتی ہے، روشن راستے تاریک نظر آنے لگتے ہیں۔اس عادت میں مبتلا افرا اپنے مقاصد کے تعین اور ان کے حصول کی کوشش کی بجائے بہت زیادہ وقت سوشل میڈیا، ای میل اور ویب سائٹس پر ضائع کرنے لگتے ہیں۔

سہل پسندی

اس قسم کی شخصیت ہمیشہ ہی یہ تصور کرتے ہیں کہ ہر چیز کو بس ان کے لیے کام کرنا چاہئے اور وہ کبھی بھی مسائل اور ان کے حل کے لیے ہمت دکھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

خیالی پلاﺅ پکانا

اس قسم کے افراد کے پاس خیالات تو بہت بڑے ہوتے ہیں مگر ہر خواب کو تعبیر دینے کے لیے سمت اور ایک منظم کوشش کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ زندگی میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔

دہشت زدہ

ہر چیز سے خوف کھانے والے افراد کے اندر کسی کو کرنے کے لیے درکار ہمت کی کمی ہوتی ہے وہ وہ کچھ بھی نیا کرنے کے خیال سے بھی ڈرتے ہیں جو ان کی زندگی میں کامیابی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔

تجزیہ پسندی

ہر چیز کو تجزیاتی انداز سے دیکھنے والے بہت سوچ میں گم رہنے کی وہ سے ذہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ جاتے ہیں اور اپنی زندگی میں کسی مشکل کو روکنے کی بجائے اسے واقع ہونے دیتے ہیں۔ زندگی کا ہر پہلو ان کے ذہن میں ہوتا ہے مگر وہ عملی طور پر کچھ بھی نہیں کرتے۔

سستی

سست افراد کے اندر عزم کی کمی ہوتی ہے، وہ کسی تحریک اور جوش سے محروم ہوتے ہیں اور وہ کبھی اپنی جگہ سے ہلنے کا سوچتے بھی نہیں چاہے ان کے سامنے کامیابی کے متعدد روشن راستے ہی کیوں نہ آجائیں۔

محدود ذہنیت

محدود ذہن رکھنے والے افراد اپنی زندگی کے مثبت اور منفی پہلوﺅں کو باریک بینی سے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں اگر کوئی چیز ان کی نظر میں ٹھیک ہے تو وہ اس میں مزید بہتری یا زندگی میں آگے بڑحنے کی کوشش تک نہیں کرتے۔

غیرپیداواری سوچ

ایسے افراد بظاہر تو بہت مصروف نظر آتے ہیں مگر کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو فائدہ مند ہو، وہ بہت زیادہ سرگرم ہوتے ہیں مگر کچھ بہتر ہوتا نظر نہیں آتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…