اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چہرے مرجھائے”سر جھکے ” “جہاز میں سنا ٹا،بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم خاموشی سے دبئی سے اسلام آباد پہنچ گئی

datetime 25  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)”اتنا سنا ٹا کیوں ہے بھئی؟” یہ بھارتی فلم کا ایک مشہور ڈائیلاگ ہے، جو عموما ً گفتگو میں استعمال کیا جاتا ہے، البتہ اس ڈائیلاگ کو اگر قومی ٹیم کے دبئی سے اسلام آباد پہنچنے والی پرواز کے تناظر میں استعمال کیا جائے، تو بے جا نہیں ہوگا۔دبئی سے قومی ٹیم کا یہ جہاز پہلے لاہور پہنچا، جہاں چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی اور بورڈ کے عہدیدار اور دیگر چند لوگ اترے، پھر اس جہاز نے دوبارہ اڑان بھری اور اس بار اس کی منزل اسلام آباد تھی، جہاں قومی ٹیم اتری۔جہاز کے اس سفر میں غیر معمولی خاموشی تھی، کھلاڑی آپس میں بات چیت نہیں کر رہے تھے۔

بھارت کے خلاف دبئی میں اتوار کو یک طرفہ شکست کے بعد سب کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے، سر جھکے ہوئے تھے۔چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی جو اس سے قبل کراچی سے دبئی خصوصی طیارے میں سفر کر کے دبئی ٹیم کے ہمراہ پہنچے تھے، اس سفر میں خاصی گہما گہمی تھی، قہقہے اور شور تھا، اس بار گہری خاموشی تھی۔چیئرمین نے دبئی میں کھلاڑیوں کو عشائیے پر بھی مدعو کیا تھا، بھارت میچ سے ایک رات پہلے اسٹیڈیم کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے پہنچے بھی تھے۔البتہ واپسی پر شکست کے بعد جیسے سب کچھ بدل چکا تھا۔ نہ رویوں میں وہ گرمجوشی تھی، نہ چہرے پر وہ مسکراہٹ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…