اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے فلیٹ میں شامل 34 میں سے 17 طیارے گراؤنڈ، کروڑوں ڈالر کا نقصان

datetime 12  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے شعبہ انجینئرنگ کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے سبب 34 کے فلیٹ میں سے 17 طیارے گراؤنڈ ہوگئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بوئنگ 777 کے 12 طیاروں میں سے 7 گراؤنڈ ہیں، ایئر بس 320 ساختہ 17 طیاروں میں سے 7 گراؤنڈ ہیں، 5 اے ٹی آر طیاروں میں سے 3 ناکارہ ہوگئے، جب کہ صرف اے ٹی آر 2 طیارے فلائٹ آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گراؤنڈ ہونے والے طیاروں میں زیادہ تر طیارے انجن، لینڈنگ گیئر سمیت دیگر پرزہ جات نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ کیے گئے ہیں، اس وجہ سے پی آئی اے کو کروڑوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔پی آئی اے کے زیادہ تر طیارے کئی سال سے گراؤنڈ ہیں اور ان طیاروں کے زیادہ تر پرزہ جات دوسرے طیاروں میں استعمال کیے جا چکے ہیں، پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ پیرس کے لیے آپریٹ ہونے والا جہاز تیار ہو گیا ہے۔یاد رہے کہ یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے گزشتہ ماہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے یورپ میں فلائٹ آپریشن سے پابندی اٹھالی تھی، پی آئی اے ترجمان نے اس موقع پر کہا تھا کہ پی آئی اے انتظامیہ قوانین اور ضابطوں پر مکمل عمل پیرا رہے گی، 4 سال کی انتھک محنت کے بعد یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔

واضح رہے کہ اربوں روپے کے مالی خسارے سے دوچار قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے حکومت نے 31 اکتوبر کو بولیاں کھولی تھیں، پی آئی اے کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کیلئے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی۔بعد ازاں دبئی سے تعلق رکھنے والی پاکستانی گروپ نے حکومت کو 250 ارب روپے کے واجبات سمیت 125 ارب روپے سے زائد میں خریدنے کی پیشکش ارسال کی تھی تاہم نجکاری بورڈ نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے موصول ہونے والے بولی مسترد کردی تھی، قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے نئی تجاویز پیش کی گئی تھیں جنہیں کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…