ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 اہلکار نوکری سے برطرف

datetime 3  اکتوبر‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ریاض خان سمیت 4 اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ریاض خان اور 2 وارڈرز نوکری سے برطرف کر دیئے گئے ہیں۔

ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ان افسران و اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قیدی کے قتل کی انکوائری میں قصور ثابت ہونے پر اہلکاروں کو بر طرف کیا گیا ہے، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے قتل کے واقعے پر انکوائری کا حکم دے رکھا تھا۔واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے ذہنی مریضوں کے سیل میں 29 فروری کو قیدی کے قتل پر انکوائری جاری تھی، انکوائری میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم سمیت 7 ملازمین کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔

اس انکوائری میں 7 میں سے 4 اہلکاروں کو نوکری سے ڈسمس کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ہوم سیکرٹری پنجاب نورالامین مینگل نے نوکری سے برخاستگی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔ذرائع کے مطابق افسران کو جیل میں قتل کی انکوائری میں قصوروار ثابت ہونے پر نوکری سے برخاست کیا گیا، جیل افسران کے خلاف 29 فروری کو ذہنی مریض قیدیوں کے سیل میں حوالاتی کے قتل پر انکوائری جاری تھی۔

انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے 30 اگست کو ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کر کے جواب طلبی کی تھی، ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف مانیٹرنگ، ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ذاتی سماعت میں بھی ملازمین پیش ہوئے جبکہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ غیر حاضر رہے۔ذرائع کے مطابق نائٹ ڈیوٹی افسر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ محمودالحسن کو دو سال، ہیڈ وارڈر واجد محمود کو ایک سال سروس ضبط کرنے کی سزا بھی دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…