اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ووٹوں کی دوبارہ گنتی پرفارمز 45، 47 کوحتمی تعین نہیں کہا جا سکتا’چیف جسٹس

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے نصیرآباد میں انتخابی نتائج میں رد و بدل کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کردیا۔سپریم کورٹ کے پی بی 14 نصیرآباد میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور انتخابی نتائج میں رد و بدل سے متعلق درخواست پر فیصلے کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوجائے تو فارمز 45 اور 47 کو حتمی تعین نہیں کہا جاسکتا۔

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے تحریر کردہ 4 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کاسٹ کیے گئے بیلٹ پیپرز انتخابی نتیجے میں بنیادی شواہد ہوتے ہیں۔ جب امیدوار دوبارہ گنتی کی درخواست دیتا ہے تو درخواست منظور ہو تو امیدواروں کی موجودگی میں دوبارہ گنتی ہوتی ہے۔گنتی کے معاملے پر تنازع ہو تو دوبارہ گنتی سے تنازع حل ہو جاتا ہے۔ عدالت کے سامنے انتخابی تھیلوں کی سیل ٹوٹی ہوئی ہونے کا کیس نہیں ہے۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد پریذائیڈنگ افسر ہر پولنگ اسٹیشن کے ووٹ گن کر فارم 45 تیار کرتا ہے۔

فیصلے کے مطابق ریٹرننگ افسر پریذائیڈنگ افسر کے بھیجے گئے تمام فارم 45 کے ووٹ شمار کرکے فارم 47 جاری کرتا ہے پھر ریٹرننگ افسر نتیجے الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہے۔ کاسٹ کیے گئے بیلٹ پیپرز کو تعین کردہ عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ جب انتخابی تھیلے کھول کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو جائے تو پریذیڈنٹ افسر یا ریٹرننگ افسر کے فارمز کو حتمی تعین نہیں کہا جا سکتا۔جب تک دوبارہ گنتی کا آرڈر نہیں آتا متعلقہ فورمز کو درست سمجھا جاتا ہے۔ اثرورسوخ استعمال کرکے انتخابی نتائج میں ردوبدل کا الزام ثابت نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…