اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایران کے ایک منحرف سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ حج کے دوران منٰی کے مقام پر حجاج کرام میں بھگدڑ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے چھ اہم افسروں کی کارستانی ہے۔ سابق ایرانی سفارت کار نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب منیٰ حادثے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سخت تناﺅ پایا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھگدڑ حادثے میں سعودی عرب کی حکومت کو براہ راست قصوروار قرار دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے منحرف سفارت کار “فرزاد فرہنکیان” نے عربی بلاگ میں کہا ہے کہ “میں نے حج کے مناسک شروع ہونے سے قبل خبردار کیا تھا کہ خامنہ ای رجیم حج کے موقع پر دہشت گردی کی سازش کر سکتی ہے۔ میں نے جس دہشت گردی اور ان کے اسباب کی نشاندہی کی تھی۔ وہ ایسے ہی وقوع پذیر ہوئی۔خیال رہے کہ سابق سفارت کار فرہنکیان ایرانی وزارت خارجہ میں ایڈوائزر کے عہدے سے ترقی پاتے ہوئے دبئی، بغداد، مراکش اور یمن میں ایران کے نمائندہ سفارت خانوں میں بطور سفارت کا خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ بیلجیئم میں ایرانی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔فرہنکیان کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کا واقعہ ایک منظم اور طے شدہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے اور اس سازش میں ایرانی حکومت براہ راست ملوث ہے کیونکہ یرانی حجاج کرام میں پاسداران انقلاب کے پانچ ہزار اہلکار شریک تھے۔ ان کا منصوبہ حج کے موقع پر بڑے پیمانے پر نظمی پھیلانا حجاج کا غیر معمولی جانی نقصان کرنا تھا تاہم سعودی عرب کی بر وقت اور تیز ترین خدمات نے سازش ناکام بنا دی۔ایران کے منحرف سفارت کار نے اپنے بلاگ میں نہ صرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ منیٰ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کی سازش ہے بلکہ ان چھ اہم فوجی افسروں کے نام اور تفصیلات بھی جاری کی ہیں جو مبینہ طور پر اس سازش کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ عادل السید جواد موسیٰ [باسیج ملیشیا کے عاشورائ بریگیڈ کے سربراہ]
2۔ عبدالباری مصطفیٰ بختی۔ شمالی تہران میں قصر سعد آباد کی جامعہ الامام میں قائم ٹریننگ سینٹر کے سربراہ۔
3۔ مصطفیٰ نعیم عبدالباری رضوی
4۔ محمد سید عبداللہ محمد باقر
5۔ سالم صباح عاشور
6 کاظم عبدالزاھراءخرد مندان
فرہنکیان کا کہنا ہے کہ متذکرہ تمام افسران پاسداران انقلاب کی یونٹ 400 کے سینئر افسر ہیں۔ یہ ایک اسپیشل یونٹ ہے جو مرشد اعلیٰ کے دفتر کی براہ راست نگرانی اور بیرون ملک سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کرتی ہے۔مبصرین کے خیال میں منیٰ میں حادثے کے مقام پر ایرانی فوجیوں ، سیاسی اور عسکری قائدین کی موجودگی نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ خاص طور پر حجاج کی صفوں میں شامل ہونے والے سابق سفارت کار غضنفر رکن آبادی جو اپنے اصلی نام کے بجائے فرضی نام سے حجاج میں شامل ہوئے تھے۔
منیٰ حادثے میں پاسداران انقلاب کے 6 عہدیدار ملوث ہیں،منحرف سابق ایرانی سفارت کار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول کتنے روپے سستا ہوگا؟ وزیراعظم نے عوام کو خوشخبری سنا دی
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، وزیراعظم کا آج قوم سے خطاب متوقع
-
تیل اور گیس کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، سعودی عرب کا اہم بیان سامنے آگیا
-
جائیداد رکھنے، خرید و فروخت کرنے والوں پر بڑی شرط عائد کرنے کی تیاری
-
ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
9 اور 10 اپریل کو مقامی چھٹی کا اعلان
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 100روپے تک کمی کا امکان،وزیراعظم کا قوم سے خطاب متوقع
-
ایران جنگ بندی کیلئے امریکا نے پاکستان پر دبا ڈالا، ٹرمپ 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے،برطانوی ا...
-
آج رات ایک پوری تہذیب صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی، ٹرمپ
-
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے بعد ایران کے وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا



















































