اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ہماری شوبز انڈسٹری اچھی نہیں، میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا اسکا حصہ بنے،یاسر حسین

datetime 17  فروری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ اداکار، رائٹر اور ہدایت کار یاسر حسین نے کہاہے کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا پاکستانی شوبز انڈسٹری کا حصہ بنے کیونکہ یہ انڈسٹری اچھی نہیں ہے۔فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر یاسر حسین کے ایک انٹرویو کا ویڈیو کلپ وائرل ہواجس میں انہوں نے شوبز انڈسٹری کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کھل کے گفتگو کی۔

یاسر حسین نے کہاکہ ہماری انڈسٹری اچھی نہیں ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا اس انڈسٹری میں آئے، اگر وہ آجائے تو ایک الگ بات ہے میں اسے کسی بھی چیز سے نہیں روکوں گا لیکن میرا دل نہیں ہے کہ وہ اداکار بنے۔ میزبان نے سوال کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟جس کے جواب میںاداکار نے کہاکہ یہ کوئی کام ہے؟ آپ بتائیں ہماری انڈسٹری میں کیا کام ہو رہا ہے؟ ایک اداکار کا کیا کام ہے؟… اداکار کا کام اداکاری کرنا ہوتا ہے اچھی اداکاری کرنا اپنے ہنر کو منوانا لیکن ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے؟انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس ٹی وی میں برا کام ہورہا ہے، فنکاروں کو برے کام کی ہی پیشکش کی جارہی ہے،اگر ہمارے سپر ہٹ ڈراموں کا جائزہ لیں تو وہ کوئی اچھے ڈرامے نہیں ہیں۔

میزبان نے سوال کیاکہ اگر ہمارے ڈرامے اچھے نہیں بن رہے تو لوگ بالخصوص بھارت ہمارے ڈرامے کیوں دیکھ رہے ہیں؟جس کے جواب میںیاسر حسین نے کہاکہ پاکستان میں سب کے پاس نیٹ فلکس نہیں ہے اس لیے وہ یہ ڈرامے دیکھ رہے ہیں جبکہ بھارت کے پاس اپنے اچھے ڈرامے نہیں ہیں اس لیے وہ ہمارے ڈرامے دیکھنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کوریا اور ایران کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ہم زبان مختلف ہونے کے باوجود ان کے ڈرامے شوق سے دیکھ سکتے ہیں لیکن جن ممالک میں اچھے ڈرامے بن رہے ہیں وہ ہمارے ڈرامے نہیں دیکھتے ہیں۔اداکار نے کہا کہ مغربی ممالک میں دیکھا جائے تو پرانے بڑے بزرگ ہی ہمارے ڈرامے دیکھ رہے ہیں یا اپنے بچوں کو دکھا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی ڈرامے صرف ان ممالک میں ہی دیکھے جاتے ہیں جن کے پاس اپنے ڈرامے اچھے نہیں ہیں،اگر ہم اچھے ڈرامے بنائیں تو دیگر ممالک میں بھی ہمارے ڈرامے دیکھے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…