جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چاہتا ہوں پاکستان کا ہر سیاستدان جیل سے باہر ہو،مولانا فضل الرحمن

datetime 8  اکتوبر‬‮  2023 |

پشاور(این این آئی)جمعیت علماء اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں پاکستان کا ہر سیاستدان جیل سے باہر ہو۔پاکستان داخلی مشکلات اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے ، معاملات وقت کے ساتھ ساتھ گھمبیر ہوتے جارہے ہیں ، مریض اگر مرض کو تسلیم ہی نہیں کرتاتو مرض بڑھتا جائے گا، بحیثیت قوم ہمیں اپنے وطن کیلئے سوچنا پڑے گا۔پشاورمیں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کاکہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے بارے میں ہمارے نوجوان اچھی طرح جانتے ہیں ، گھرمیں پوتے کبھی کبھی سوشل میڈیا کے بارے میں سکھاتے ہیں، اس وقت سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہو گا کہ مشکلات ہیں کیا۔

کچھ حقائق کو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ، پاکستان داخلی مشکلات اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے ، معاملات وقت کے ساتھ ساتھ گھمبیر ہوتے جارہے ہیں ، مریض اگر مرض کو تسلیم ہی نہیں کرتاتو مرض بڑھتا جائے گا، بحیثیت قوم ہمیں اپنے وطن کیلئے سوچنا پڑے گا۔مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں نے عوامی جلسوں میں کہا تھا کہ معیشت بہت گر گئی ہے،پی ٹی آئی کے دور میں سالانہ مجموعی پیداوار صفر ہوگئی۔اسٹیٹ بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف 2ارب ڈالر رہ گئے تھے، ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب ڈالر چھوڑے تھے،پوری دنیا کی معیشت میں پاکستان 24ویں نمبرپرآگیا تھا۔اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آج پاکستان جی20کاممبر ہوتا، ہمارے پڑوس میں جی 20کااجلاس ہوا ہے، ساڑھے3سال میں پاکستان دنیا کی معیشت میں47ویں نمبر پرچلا گیا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ساڑھے3سال میں حکومتی گرفت کمزور کی گئی جو ابھی تک کمزور ہے، کہتارہا ملک اس حد تک نیچے جا چکا ہے کہ اب دلدل بن گئی ہے، آئے روز خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے، قبائلی علاقوں میں روزانہ کے حساب سے کتنے لوگ گولی کا نشانہ بنتے ہیں، جمعیت علمائے اسلام پر حملے کس کے اشارے سے ہوئے؟ مستونگ میں مولانا عبدالغفور حیدری پر بھی حملہ ہوا تھا، جہاں اس حدتک قتل وغارت ہو وہاں امن وسکون کاکیا سوال پیدا ہوتا؟ملک کا پوراڈھانچہ ہل چکا ہے، کراچی میں گلی کوچوں میں جرائم ہیں، کرا چی میں ایم این اے اورایم پی ایزسے گھڑیاں چھینی جاتی ہیں۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کون لوگ ہیں جو ایک کمرے میں بیٹھ کر ملک اور عوام کا فیصلہ کرتے ہیں، کچھ کمزوریوں کاذکرکرتا ہوں تو کہتے ہیں الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں،الیکشن ملتوی نہیں کرارہا ، غلط فیصلوں کی نشاندہی کررہا ہوں۔2018کے الیکشن کو تسلیم نہیں کیا،ساڑھے 3 سال دوبارہ الیکشن کامطالبہ کیا، ہمیں الیکشن سے ڈرایا جاتا ہے،جو ہمیں الیکشن سے ڈرانے والے بلدیاتی الیکشن دیکھ لیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ مغربی دنیا آج بھی اس کی پشت پر ہے، ان کی لابیز یہاں کام کرر ہی ہیں، یہ ایک پارٹی کیلئے کام نہیں کررہی،یہ ریاست کیخلاف کام کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…