بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ملازمہ کےساتھ امتیازی سلوک رکھنے والے شخص نے وضاحت دیدی

datetime 23  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ریسٹورنٹ میں ملازمہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے اور دوبارہ کھانے کی جانب نہ دیکھنے کی ہدایت کرنے والے شخص نے سوشل میڈیا ہی پر اپنا ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ شمس الرحمان مشعدی کا کہنا ہے کہ معزز ناظرین میں شمس الرحمٰن مشعدی ہر ا±س شخصیت سے مخاطب ہوں جس نے پچھلے دنوں فیس بک پہ میرے بارے میں کچھ دیکھا س±نا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تومیں شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھ سے پیار کرتے ہوے میرے دفاع میں کمنٹ کیا اور ا±ن کا بھی احسان یاد رہے گا جنہوں نے بلا تحقیق میرے خلاف کمنٹ کیا۔ اپنے اوپر لگائے گئے الزام کی حقیقت کے حوالے سے گزارش ہے کہ وہ بچی جس کو ویڈیو میں ملازمہ کہا گیا ہے حقیقت میں وہ ہمارے ادارے میں قرآنی تعلیم اور دسویں جماعت کی طالبہ ہے اور میری اہلیہ کی شاگرد ہے۔ پچھلے پانچ برس سے ہمارے ہی ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی ہے اور کھانا ہی نہیں اس کے تمام تر اخراجات ہمارے ہی ذمہ ہیں۔ ا±س دن اس کے کھانا نہ کھانے کی وجہ کسی قِسم کی زبردستی نہیں بلکہ طبیعت کی ناسازی تھی کہ اس کا کچھ کھانے کو دل نہ تھا اور منہ دوسری طرف کر کے بیٹھنے کی وجہ کوئی حکم وغیرہ نہیں بلکہ صرف اساتذہ کا احترام تھا جو اس نے کیا اور اسے اکیلا اس لئے نہیں چھوڑا گیا کہ اس کے لئے پریشانی کا سبب نہ ہو، شمس الرحمان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے بغیرتحقیق و تصدیق مجھ پر الزام لگایا میرا ا±ن سوشل میڈیا کے افراد سے سوال ہے کہ کسی بھی فیملی کی چھپ کہ فوٹو یا ویڈیو بنانا کون سی اعلیٰ انسانی اقدار کا اظہار ہے؟ بغیر تحقیق و تصدیق کیےکسی پر الزام لگانا اور پھر اس کو پھیلا کر بدنام کرنا کس مہذب رویہ کی دلیل ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ میری آخری گزارش ہے کہ میرے پر الزام لگانے والے افراد خدارا ایک دفعہ ادارے آکر دیکھیں کہ یہاں ایک نہیں روزانہ سینکڑوں بچے بچیوں کو کتنے عزت و وقار سے کھانا پیش کیا جاتا ہے جبکہ انہوں نے تنبیہہ بھی کی کہ میرے خلاف کیے جانے والے پراپیگنڈہ کے خلاف میں قانونی کارروائی کا بھی پورا حق رکھتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…