بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

لاہور میں پھرڈبل ڈیکر بسیں ،فیصلہ ہوگیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں ہارٹی کلچر اور شجرکاری کے فروغ کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے لاہور میں سیاحت کے فروغ کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ بسیں چلانے کے پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری بھی دی۔ یہ ڈبل ڈیکر بسیں قذافی سٹیڈیم سے فوڈسٹریٹ تک چلائی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہروں کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے ہارٹی کلچر اور شجرکاری میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے دنیا کے جدید ماڈل سے استفادہ کیا جائے۔ پی ایچ اے اپنی نرسری بھی بنائے اور ہارٹی کلچر اور شجرکاری کے فروغ کیلئے جدت پر توجہ دی جائے۔ وزیراعلیٰ نے لاہور کی سڑکوں پر ہارٹی کلچر اور شجرکاری کیلئے فوری طور پر پلان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جدت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے اور اس ضمن میں پی ایچ اے جامع پلان مرتب کرکے پیش کرے۔درختوں کی حفاظت کیلئے قانون سازی بھی کی جائے اور پاٹ ٹری پلانٹیشن کا ماڈل بھی اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور آرٹ کلچرل پویلین کے منصوبے کی تجویز کے حوالے سے جامع پلان پیش کیا جائے۔ڈی جی پی ایچ اے نے ہارٹی کلچر اور شجرکاری کے ضمن میں بریفنگ دی۔ خواجہ احمد حسان، وائس چیئرمین پی ایچ اے افتخار احمد، ایم پی اے رمضان صدیق بھٹی، سیکرٹری خزانہ، ایم ڈی نیسپاک، کمشنر لاہور ڈویژن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…