جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

ڈالفن فورس پنجاب حکومت کا نیا سفید ہاتھی؟

datetime 22  ستمبر‬‮  2015 |

اسلا م آباد(نیوزڈیسک)نئی ایلیٹ سیکیورٹی یونٹ’ ڈالفن فورس‘ کا نام بھلے عادی مجرموں کے دلوں میں اپنا خوف پیدا نہ کر سکے لیکن اس کے اہلکاروں نے لاہور کی سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔ڈالفن فورس کا آئیڈیا اور نام ترکی کے ایک خصوصی یونٹ سے مستعار لیا گیا ہے، جس سے وزیر اعلی پنجاب انتہائی متاثر تھے۔ایک طرف جہاں شہباز شریف اس فورس کو متعارف کرانے میں انتہائی سنجیدہ تھے وہیں اعلیٰ پولیس افسران نے اس نئے یونٹ کو شبہات کی نظر سے دیکھا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ماضی کے خصوصی یونٹس کی طرح اس کا بھی انجام صرف شرمندگی ہو گا۔ڈولفن فورس کی ممکنہ ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اس پر اٹھنے والے کثیر اخراجات ہوں گے۔یونٹ کیلئے اب تک 35 ہنڈا سی بی موٹر سائیکلیں خریدیں جا چکی ہیں اور ہر موٹر سائیکل کی قیمت پندرہ لاکھ روپے ہے۔نئی فورس کیلئے اخراجات کی فہرست یہیں مکمل نہیں ہوتی کیونکہ ایک منصوبے کے تحت فورس کے ہر اہلکار کیلئے پچاس ہزار روپے مالیت کی وردی خریدنے پر غور ہو رہا ہے۔ اس وردی میں کیمرے کے ساتھ ساتھ اہلکار کی نقل و حرکت دیکھنے کیلئے خصوصی چپ بھی نصب ہو گی۔
اس کے علاوہ ماضی میں قائم ہونے والے پیٹرولنگ یونٹس کے مقابلے میں ڈولفن فورس کی مینٹیننس اور ریپئرنگ اخراجات زیادہ ہوں گے۔
پولیس افسران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شناخت پر کہا کہ تھوڑے عرصے میں ہی ڈولفن فورس اور اس کے ساز وسامان کیلئے فنڈز ختم ہو جائیں گے اور بلاآخر اسے جرائم کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے وی آئی پی شخصیات کی حفاظت کیلئے تعینات کر دیا جائے گا۔ڈولفن فورس کے ڈی ایس پی میر کاشف خلیل کا کہنا ہے کہ سٹریٹ کرائمز میں ملوث مجرموں کا پیچھا اور گرفتار کرنے کیلئے یونٹ کے پاس اس طرح کی طاقت ور موٹر سائیکلیں ہونا ضروری ہے۔تاہم، اسی طرح کی دوسری ایلیٹ یونٹس ’محافظ فورس‘ اور ’ کوئیک رسپانس فورس‘ قائم ہونے کے کچھ عرصے میں ہی 125سی سی موٹر سائیکلوں کی مینٹیننس کیلئے فنڈز ختم ہونے کی وجہ سے بیکار ہو گئیں۔ان یونٹس کے زیادہ تر اہلکار روزمرہ کے ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے اپنی سواری استعمال کرنے پر مجبور ہوئے اور انہیں اس کام کیلئے روزانہ 1.5 لیٹر فیول آلاؤنس دیا جانے لگا۔
زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کیلئے کئی بار درخواستیں ارسال کی گئیں لیکن ان پر کوئی عمل نہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ لاہور کے زیادہ تر پولیس اسٹیشنوں میں صرف دو سرکاری گاڑیاں ہیں جو شہر میں امن و امان برقراررکھنے کیلئے ناکافی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی ایلیٹ فورس پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے اسے موجودہ فورسز کی بہتری کیلئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ فی الحال پولیس حلقوں میں ڈولفن فورس کی کامیابی کے حوالے سے تھوڑی امید ہی پائی جاتی ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…