بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

امریکی سفارت خانے کی توسیع، وفاق سمیت دیگر کو نوٹس

datetime 22  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں کیا ہورہاہے؟سفارتخانے کیلئے 38ایکڑ اراضی موجود ہونے کے باوجود مزید18ایکڑ اراضی دیدی گئی-سپریم کورٹ نے امریکی سفارتخانے میں توسیع کے خلاف دائر کی جانے والی ایک درخواست پر وفاق، وزارت خارجہ، دفاع، داخلہ، قانون اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے امریکی سفارتخانے میں توسیع کے لئے دی جانے والی اضافی 18 ایکٹر اراضی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔واضح رہے کہ مذکورہ پٹیشن وطن پارٹی کی جانب سے 2009 میں دائر کی گئی تھی جس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت کو اضافی اراضی کی فروخت اور امریکی سفارت خانے کو اس پر تعمیرات سے روکا جائے۔
پٹیشن میں درخواست کی گئی ہے کہ امریکی سفارت خانے کے پاس پہلے ہی سے 38 ایکڑ اراضی موجود ہے اور فراہم کی جانے والی اضافی اراضی غیر ضروری ہے۔گذشتہ روز درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے عدالت کو بتایا کہ کسی فارن مشن کو اس کی ضرورت سے زیادہ اراضی دینا غیر قانونی عمل ہے جبکہ سفارتخانوں کو زمین دینے کے لیے ویانا کنونشن موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خلاف ضابطہ اراضی الاٹ کرنے پر سیکرٹری خارجہ اور سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کی جائے۔بیرسٹر ظفراللہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ معاملہ قومی سیکورٹی کا ہے تاہم اس میں حکومت دلچسپی نہیں لے رہی۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سفارت خانے میں 7 منزلہ عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ نے وفاق، وزارت خارجہ، دفاع، داخلہ، قانون اور سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 میں ایسی ہی ایک پٹیشن ایڈووکیٹ طارق اسد نے ریٹائرڈ لیفٹینٹ کرنل انعام الرحمان کی جانب سے دائر کی تھی جس میں امریکی سفارت خانے میں ہونے والے توسیع کے کام کو چیلنج کیا گیا تھا۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرے جس میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججز، سینئر وکلاء، سول انجینئرز اور سیاستدان موجود ہوں، جو امریکی سفارت خانے کا دورہ کرکے کے اس حوالے سے اپنی روپورٹ عدالت میں پیش کریں۔عدالت کی جانب سے یہ پٹیشن خارج کردی گئی تاہم اس پر کی جانے والی اپیل تاحال التوا کا شکار ہے۔یاد رہے کہ 13 ستمبر 2013 کو پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی جانب سے بھی امریکی سفارت خانے میں توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…