جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ریاست کیلئے آرڈرز کو شکست دینے کے 101راستے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

datetime 18  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے ہیںکہ میں ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہوں جو اسلام آباد میں ہیں، وہ عدالتی رٹ کو شکست دینا چاہتے ہیں، ریاست کے لیے آرڈرز کو شکست دینے کے 101راستے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی کی رہنماء شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پرسماعت کی۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ پیش ہوئیں اور دلائل دیے۔وکیل زینب جنجوعہ نے کہاکہ کل عدالت نے گرفتاری سے روکنے کا حکم دیا،راولپنڈی پولیس نے اسلام آباد پولیس کی معاونت سے رات شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کیا حراست میں لینے کا آرڈر ہے؟ راولپنڈی ڈی سی کا حراست میں لینے کا آرڈرعدالت میں پیش کیا گیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟

جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت اسلام آباد پولیس کو نوٹس جاری کرکے توہین عدالت کی کارروائی کرے ۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ میں ان کے خلاف کارروائی کرسکتا ہوں جو اسلام آباد میں ہیں، وہ عدالتی رٹ کو شکست دینا چاہتے ہیں، ریاست کے لیے آرڈرز کو شکست دینے کے 101 رستے ہیں ، یہ سب کچھ کرکے دنیا کو کیا دیکھا رہے ہیں۔پولیس نے عدالت کو شیریں مزاری کے خلاف 3مقدمات درج کرنے کا بتایا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل کو بلانے کے ریمارکس دیے تو پولیس نے بتایا کہ سینیٹر فلک ناز کے خلاف کوئی کیس نہیں۔عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر پاس کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…