جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

سعودی سفیر پر بھارتی الزام

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

دہلی(نیوزڈیسک)بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک سعودی سفارت کار جن پر دو نیپالی خواتین کے مبینہ ریپ کا الزام ہے وہ سفارتی استثنیٰ کے تحت بھارت چھوڑ چکے ہیں۔دونوں متاثرہ خواتین کی عمریں 30 اور 50 سال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اغوا کر کے ایک فلیٹ میں بھوکا رکھا گیا اور سفارت کار نے انھیں بار بار ریپ کیا تھا۔سعودی عرب نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے اہلکار کے سفارتی استثنیٰ کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں اس اہلکار پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی سفارت کار کی بھارت سے روانگی نے بھارت کو ایک سفارتی مخمصے سے نکال لیا ہے۔نیپال اور بھارت کے سفارتی تعلقات گہرے ہیں لیکن بھارت تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا جہاں لاکھوں بھارتی شہری کام کرتے ہیں۔بدھ کی رات کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ایک بیان میں کہا کہ فرسٹ سیکرٹری مجید حسن اشور ’جن پر دو نیپالی خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے کا الزام ہے نے ملک چھوڑ دیا ہے‘

مزید پڑھئے: ”وہ پاکستانی جو یوکرائن کی امیر ترین شخصیت بن گیا“

۔انھوں نے مزید کہا کہ سرکاری سفارتی تعلقات پر مبنی ویانا کنوینشن کے تحت مذکورہ سفارتی اہلکار کو تحفظ حاصل ہے۔بھارتی پولیس نے اس سے پہلے سعودی عرب کار پر ریپ، اغلام بازی اور کسی شخص کو غیر قانونی طور پر قید کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔دونوں خواتین کو بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں کے ایک فلیٹ سے بچایا گیا تھا جس کے بارے میں پولیس کو ایک غیر سرکاری تنظیم نے بتایا تھا۔خواتین گھریلو کام کرتی تھیں اور ان پر مبینہ طور پر زیادتی کئی ماہ سے ہو رہی تھی۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ ’ہمیں لگتا تھا جیسے ہم یہاں پر مر جائیں گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ روزانہ زیادتی ہوتی تھی۔انھوں نے مزید کہا کہ فلیٹ کی عمارت بہت اونچی تھی اور وہ وہاں سے بالکل نہیں بھاگ سکتی تھیں۔دونوں خواتین کو گذشتہ ہفتے واپس نیپال بھیج دیا گیا تھا۔نیپال دنیا کے سب سے غریب ممالک میں سے ایک ہے اور ملک سے ہزاروں لوگ گھریلو ملازمت یا مزدوری کے لیے بھارت یا دیگر ایشیائی اور عرب ریاستوں کا سفر کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…