ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ورلڈکپ 2023، بھارتی بورڈ آئی سی سی کو 955 کروڑ روپے ادا کریگا

datetime 16  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی کرکٹ بورڈ کو اس بار بھی ورلڈ کپ کیلیے حکومت سے کسی قسم کی رعایت نہیں مل رہی جب کہ آئی سی سی کو955 کروڑ روپے اپنی ’جیب‘ سے ادا کرنا پڑیں گے۔نجی ٹی وی ایکسپریس کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے

اپنے شوپیس ایونٹس کی میزبانی دینے کی اولین شرط ہی میزبان بورڈ کیلیے اپنی حکومت سے ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنا ہوتی ہے، بی سی سی آئی نے جب 2016 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز پایا تو اس سے حاصل ہونے والی آئی سی سی کی کمائی پر بھارتی حکومت نے 193 کروڑ روپے ٹیکس عائد کردیا، یہ رقم بعد میں آئی سی سی نے بی سی سی آئی کے ریونیو حصے سے منہا کر لی، اس پر بھارتی بورڈ کی جانب سے آئی سی سی ٹریبونل میں کیس بھی کیا گیا۔اب ایک بار پھر اکتوبر میں بھارت ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے، ابھی تک اسے حکومت کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ ملنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا، اس لیے بی سی سی آئی کی جانب سے جلد ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ریونیو میں سے ہی 955 کروڑ روپے منہا کر لے جو اسے میگا ایونٹ میں آمدنی پر ٹیکس کی صورت میں ادا کرنے ہوں گے۔بھارتی بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سے کیسے اپنے قوانین تبدیل کرنے کو کہا جاسکتا ہے، 2016 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ایسی ہی ایک درخواست مسترد کردی گئی تھی، جلد ہی بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو ٹیکس چھوٹ سے متعلق اپنی پوزیشن سے آگاہ کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…