ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے تمام روایتی ایندھن کے استعمال سے ایک ارب افراد بے گھر ہوسکتے ہیں، سائنسدانوں کا دعویٰ

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

برلن(نیوز ڈیسک) سائنس دانوں نے خبر دار کیا ہے کہ ایندھن جلنے سے جس رفتار سے فضا میں کاربن کا اخراج ہورہا ہے اگر دنیا میں دستیاب تمام ایندھن کو استعمال کرلیا جائے تو لندن،ٹوکیو،نیویارک ،ہانگ کانگ اور ان جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر ہمیشہ کے لیے زیر آب آجائیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں دستیاب تمام تیل،گیس اور کوئلے کے ذخائر کو استعمال کرنے سے بڑی تعداد میں کاربن کا اخراج ہوگا اوراس کی وجہ سے زمینی درجہ حرارت یعنی گلوبل وارمنگ میں کئی گناہ اضافہ ہوجائے گا اور انٹارکٹیکا میں موجود تمام برف پگھلنے سے سمندر کی سطح 60 میٹر تک بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے ساحل کے قریب آباد متعدد بڑے شہر ڈوب جائیں گے جس کی وجہ سے 1 ارب سے زائد انسان متاثر ہوں گے۔ماہرین اس سے قبل بھی متعدد بار عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندروں کی سطح میں اضافے کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں تاہم ان کی زیادہ توجہ مغربی انٹارکٹیکا میں موجود برف کے ذخائر پر ہے جو کہ تیزی سے پگھل رہے ہیں،لیکن سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ معدنی ایندھن کے استعمال کے پورے انٹارٹیکا پر اثرات کے بارے میں یہ پہلی تحقیق ہے جس میں مشرقی تہہ کو لاحق خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ہم انٹارکٹیکا کو پگھلنے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں معدنی ایندھن کے اندھا دھند استعمال پر قابو پانا ہوگا تاکہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائید کی مقدار کنٹرول میں رہے اورعالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کے نقصانات سے بچاجاسکے۔بصورت دیگر150 سالوں میں دنیا کا تمام ایندھن جلابیٹھیں گے اور ایک ارب سے زائد آبادی کے گھر سمندر بردہوجائیں گے۔جرمن ماہر موسمیات پروفیسر اینڈرس لیور مین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مغربی انٹارٹیکا میں برف کی تہہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ ٹوکیو،شنگھائی،نیویارک،ہیمبرگ اور کلکتہ جیسے شہرمستقبل میں بھی آباد رہیں تو ہمیں مشرقی انٹارٹیکا میں موجود برف کو پگھلنے سے بچانا ہوگا۔واضح رہے کہ گزشتہ صدی کے دوران سطح سمندر 17 سینٹی میٹربلند ہوئی اور اس کے بلند ہونے کی رفتار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک اورتحقیق کے مطابق ہر سال سمندر کی سطح میں 3.2ملی میٹر کا اضافہ ہو رہا ہے، جو ماضی کے مقابلے میں 60 فی صد زیادہ ہے جس سے ساحلوں پر آباد شہروں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…