سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو دھول چٹا دی

  پیر‬‮ 22 فروری‬‮ 2021  |  22:46

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پی ایس ایل کے چوتھے میچ میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دے دی۔ لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بیٹنگ کی دعوت دی، گلیڈی ایٹرز کی جانب سے اننگز کا آغاز ٹام بینٹن اور صائم ایوب نے کیا۔ اوپنر بلے باز ٹام بینٹن 4 رنز بنا کرحارث رؤف کی گیند پرآؤٹ ہو گئے، ابھی کوئٹہگلیڈی ایٹرز کو سکور 12 ہوا تھا کہ صائم ایوب بھی ہمت ہار گئے ان کی وکٹ شاہین شاہ نے لی، صائم پانچ رنز بنا سکے۔ سرفراز احمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا


اور 40 رنز بنائے، کرس گیل نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، انہوں نے طوفانی بیٹنگ کی، کرس گیل نے 40 گیندوں پر 68 رنزبنائے، ان کی اننگز میں شاندار 5 چھکے اور 5 ہی چوکے شامل تھے۔ وہ راشد خان کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔ اعظم خان 13 رنزبنا سکے، محمد نواز نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 20 گیندوں پر 33 رنز بنائے، ان کی اننگز میں تین شاندار چھکے اور ایک چوکا شامل تھا وہ ناٹ آؤٹ رہے۔ بین کٹنگ 5 رنز بنا سکے، انور علی ایک رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 178 رنز بنائے اور لاہور قلندرز کو جیتنے کے لئے 179 رنز کا ہدف دیا۔ لاہور قلندرز کی جانب سے حارث رؤف نے 3 جبکہ شاہین شاہ آفریدی، احمد دانیال اور راشد خان نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ لاہور قلندرز نے انتہائی پراعتماد آغاز کیا۔ لاہور قلندرز کی پہلی وکٹ 64 کے سکور پر گری جب ان کے کپتان سہیل اختر زاہد محمود کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ سہیل اختر نے 21 رنز بنائے۔ فخر زمان اور محمد حفیظ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، ریکارڈ پارٹنر شپ بھی بنا ڈالی، فخر زمان نے 82 اور محمد حفیظ نے 73 رنز بنائے۔ لاہور قلندرز نے نو وکٹوں پر سکور پورا کر لیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

یہ ہوں یا نہ ہوں

سرتاج عزیز صاحب کو اگر لیونگ لیجنڈ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ یہ 92سال کے ”نوجوان“ ہیں‘ پوری زندگی قومی اورعالمی اداروں میں کام کیا‘ اس وقت پوری سیاسی لاٹ میں ان سے زیادہ تجربہ کار بیوروکریٹ‘ ایکسپرٹ اور سمجھ دار شخص نہیں‘ یہ تاریخ کے ناظر بھی ہیں اور خود بھی ایک تاریخ ہیں۔سرتاج ....مزید پڑھئے‎

سرتاج عزیز صاحب کو اگر لیونگ لیجنڈ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ یہ 92سال کے ”نوجوان“ ہیں‘ پوری زندگی قومی اورعالمی اداروں میں کام کیا‘ اس وقت پوری سیاسی لاٹ میں ان سے زیادہ تجربہ کار بیوروکریٹ‘ ایکسپرٹ اور سمجھ دار شخص نہیں‘ یہ تاریخ کے ناظر بھی ہیں اور خود بھی ایک تاریخ ہیں۔سرتاج ....مزید پڑھئے‎