جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ویسٹ انڈیز نہ پاکستان۔چیمپئنز ٹرافی سے بھارت باہر،حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

کولکتہ ( این این آئی)بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر انوراگ ٹھاکر نے خبردار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اصلاحات کے مطالبے کے نتیجے میں بھارت آئندہ سال انگلینڈ میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت سے محروم ہو سکتا ہے۔جبکہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سیریز کے امکانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے کھیلنے کو بھول جائیں، پہلے یہ دیکھیں کہ ہم چیمپیئنز ٹرافی کھیلتے ہیں یا نہیں،پاکستان سے کھیلنے کا امکان صرف اسی صورت میں ہے کہ اگر ہم چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کرتے ہیں۔وہ میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا بھارت آئندہ سال انگلینڈ میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کر سکے گا یا نہیں۔سفارشات کی روشنی میں ہمیں آئی پی ایل سے پہلے اور بعد 15 دن کا وقفہ دینا ہو گا۔ آئی پی ایل سے پہلے آسٹریلیا سے سیریز ہے اور بعد میں چیمپیئنز ٹرافی ہے۔انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ بی سی سی آئی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہیں پہلے آئی پی ایل یا چیمپیئنز ٹرافی کھیلنی ہے۔انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ان اصلاحات پر عمل کرنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو سکتا ہے اور وہ چھ اکتوبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ فائل کریں گے۔اس موقع پر انہوں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سیریز کے امکانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان سے کھیلنے کو بھول جائیں، پہلے یہ دیکھیں کہ ہم چیمپیئنز ٹرافی کھیلتے ہیں یا نہیں،پاکستان سے کھیلنے کا امکان صرف اسی صورت میں ہے کہ اگر ہم چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کرتے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے مستقبل میں ڈی آر ایس سسٹم کے استعمال کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سسٹم 100فیصد درست ثابت ہوتا ہے تو بی سی سی آئی اس کے استعمال کیلئے تیار ہے۔سپریم کورٹ کو لودھا کمیٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ انڈین پریمیر لیگ 2017 کے ایڈیشن کے بعد 15 دن تک انڈین ٹیم کا کوئی میچ نہ رکھا جائے اور سپریم کورٹ نے اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم انڈین بورڈ نے اس کی مخالفت کی تھی۔آئی پی ایل کے فائنل کے اختتام کے چند دن بعد ہی یکم جون سے چیمپیئنز ٹرافی کا آغاز ہو جائے گا اور موجودہ حکم نامے پر عمل کرنے کی صورت میں بھارت ایونٹ میں شرکت نہیں کر سکے گا۔15 دن تک کرکٹ نہ کھیلنے کی پابندی لگانے کا مقصد کھلاڑیوں کو آرام کا موقع فراہم کرنا ہے لیکن بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس وقفے کے نتیجے میں بھاری مالی نقصان کے ساتھ ساتھ کرکٹ کیلنڈر کو دوبارہ شیڈول کرنے جیسی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس راجیندر مال لودھا کی زیر سربراہی قائم کمیٹی کی جانب سے مجوزہ سفارشات پر عمل درآمد کا حکم دیا تھا جہاں سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کی جانب سے چلائے جانے والے دنیا کے امیر ترین کرکٹ بورڈ کے نظام میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔تاہم ہفتے ہونے والے بورڈ کے اہم اجلاس میں ٹیم کو 15 دن کا وقفہ دینے کے ساتھ ساتھ اہم سفارشات کو مسترد کردیا گیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…