شیریں مزاری کی گرفتاری، تحریک انصاف نے مین گارڈن ٹاؤن کو بلاک کر دیا

  ہفتہ‬‮ 21 مئی‬‮‬‮ 2022  |  19:10

لاہور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے پارٹی کی سینئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف مین گارڈن ٹاؤن کو بلاک کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرے میں تحریک انصاف پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات مسرت جمشید چیمہ،ڈاکٹر نوشین حامد معراج، سعدیہ سہیل رانا،انیسہ فاطمہ سمیت دیگر خواتین رہنماؤں نے کی

جبکہ اس موقع پر خواتین کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پاکستان کی گیارہ کروڑ خواتین شیریں مزاری ہیں،اگر شیریں مزاری کو رہا نہ کیا گیا تو انقلاب میں شدت آنے کی ذمہ داری امپورٹڈحکمرانوں پر عائد ہو گی۔ ہم پر امن لوگ ہیں لیکن شاید حکمران ٹولے نے غلط اندازہ لگایا ہے۔ اگر یہ منفی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئے تو جو بھی حالات پیدا ہوں گے اس کے ذمہ دار امپورٹڈاور کٹھ پتلی حکمران ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ امپورٹڈحکمران خواتین کارڈ کھیلنا بند کریں، رانا ثنا اللہ نے کس منہ سے شور مچایا ہوا ہے،رانا ثنا اللہ جب پیپلزپارٹی میں تھے تو انہوں نے محترمہ کلثوم نواز اور مریم صفدر کے لئے کس طرح کی زبان استعمال کی تھی کیا وہ اسے بھول گئے ہیں۔ہم امپورٹڈ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی مخالف جماعت کی خواتین کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے باز رہے، یہ پیپلز پارٹی کا زمانہ نہیں ہے جس طرح انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی کردار کشی کی تھی،22کروڑ عوام ان گلو بٹوں کا کڑا محاسبہ کریں گے اور انہیں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون رہنما کو گرفتار کرنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ امپورٹڈ حکمران ٹولہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکاہے، اس طرح کے ہتھکنڈے اسلام آبادکی طرف مارچ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ ملک بھر کی خواتین ڈاکٹر شیریں مزاری کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎