پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

افغان فنڈز کے استعمال کا فیصلہ خالصتاً افغانستان کا ہونا چاہیے، پاکستان

datetime 13  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے امریکا کی جانب سے افغانستان کے منجمد اثاثوں میں سے نصف نائن الیون حملے کے متاثرین کے لیے مختص کرنے پر کہا ہے کہ افغان فنڈز کے استعمال کا فیصلہ خالصتاً افغانستان کا ہونا چاہیے۔ہفتہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں اپنے بیان میں کہاکہ

امریکہ کی جانب سے امریکی بینکوں میں موجود افغان سرمایہ کا انجماد ختم کرکے افغانستان میں انسانی امداد کے لئے 3.5 ارب ڈالر اور ستمبر گیارہ کے متاثرہ خاندانوں کو 3.5 ارب ڈالر زر تلافی دینے کا فیصلہ ہماری نظر سے گزرا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان عالمی برادری پر مسلسل زور دیتا آرہا تھا کہ افغانستان میں وقوع پزیر انسانی المیہ سے نبردآزما ہونے اور افغان معیشت کی بحالی میں مدد کے لئے تیزی سے اقدام کرے کیونکہ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ نہیں کیاجاسکتا۔ بیرون ملک افغان سرمایہ کا انجماد ختم کرنے کے طریقے ڈھونڈنے سے انسانی مسئلہ کے فوری حل اور افغان عوام کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ ترجمان نے کہاکہ بیرون ملک بینکوں میں افغان سرمایہ کا انجماد ختم کرنے پر پاکستان اصولی موقف پر کاربند ہے کہ یہ افغان قوم کی ملکیت ہیں اور انہیں جاری کیاجانا چاہئے۔ افغان فنڈز کا استعمال افغانستان کا خودمختاری پر مبنی فیصلہ ہونا چاہئے۔ ترجمان نے کہاکہ افغان عوام سنگین معاشی اور انسانی مسائل کا سامنا کررہے ہیں اور ان تکالیف سے نجات کے لئے عالمی برادری کو اپنا اہم اور تعمیری کردار جاری رکھنا ہوگا۔ اس ضمن میں وقت ناگزیر اہمیت کا حامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…