مری میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ سردی نہیں بلکہ کیا چیز نکلی؟ اہم انکشاف سامنے آگیا

  اتوار‬‮ 9 جنوری‬‮ 2022  |  11:42

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ٗ این این آئی) روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مری میں سیاحوں کی ہلاکت کی وجہ سردی نہیں بلکہ کاربن مونو آکسائیڈ (CO Gas) ہے یہ اک بو کے بغیر گیس ہے۔ دراصل گاڑی کا انجن جب آن ہو اور اس کا ایگزاسٹ برف میں دھنسا گیا ہو تو یہ گیس باہر کی بجائے گاڑی کے اندر جمع ہوتی ہے، کیونکہ یہ بو کے بغیر گیس ہے لہٰذا اس کا پتا نہیں چلتا اور پہلے انسان چند

منٹوں میں بیہوش اور پھر موت واقع ہو جاتی ہے۔ مری میں بھی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کی اموات کے بڑی وجہ سردی نہیں بلکہ یہ گیس ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین برس پڑے اور ان سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی گئی کہ ”مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پرنہایت مضطرب اور دل گرفتہ ہوں، ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی کہ غیرمعمولی برفباری اورموسمی حالات کوملحوظِ خاطر رکھے بغیرلوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا”’میں تحقیقات اور ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کرچکا ہوں”۔وزیراعظم کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وزیراعظم سے ٹوئٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان

کی بے سمت حکومت کی حکمرانی کا فلسفہ ‘مرے کو مارے شاہ مدار’ ہے، کچھ بھی غلط ہوجائے ، اْس کا ملبہ کسی نہ کسی کے سر تھونپ دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 22 کروڑ لوگوں کے ملک کو وہ چلارہے ہیں جن میں ذمہ داری نبھانے اور حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹ شیئرکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بے رحمانہ،

ظالمانہ اور احمقانہ ٹوئٹ واپس لو۔سینئر صحافی فہد حسین نے اپیل کہ اس ٹوئٹ کو پلیز ڈیلیٹ کردیں۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ کو زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا اور لکھا کہ حکومت نے جو کیا ہے وہ ناقابل معافی ہے اور اس کا ردعمل بھی اتنا ہی برا ہے۔صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھاکہ خان صاحب آپ ہر غلطی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں، یہ کوتاہی اور

ناکامی آپکی حکومت اور انتظامیہ کی ہی ہے لوگوں کی نہیں۔اس کے علاوہ سینئر صحافی ثاقب بشیر نے ٹوئٹ کرتے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹر کے کمالات ، وزیر اعظم کا ٹویٹر ہینڈل اتنا رف استعمال ہورہا ہے۔سینئر صحافی وقار بھٹی نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیشہ مصیبت میں پھنسے ہوئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کو ہی ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے اس حکومت کی جانب سے؟صحافی احمد ولید نے کہا کہ ایک گھنٹہ اتنی شدید تنقید کے بعد اب اردو میں بھی وہی الفاظ۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎