گوگل کے پکسل فون لیک ہوکر مارکیٹ میں پہنچ گئے

  پیر‬‮ 8 اکتوبر‬‮ 2018  |  12:00

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اگرچہ گوگل کی جانب سے پکسل سیریز کے نئے فون رواں ماہ 4 اکتوبر کو متعارف کرائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب اطلاعات ہیں کہ کمپنی نے ان فونز کو پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی تاخیر کردی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ گوگل کے پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس ایل آئندہ ہفتے پیش کیے جائیں گے، لیکن حیران کن طور پر کمپنی کے یہ فون لیک ہوکرمارکیٹ میں فروخت کے لیے بھی پیش ہوگئے۔ جی ہاں، گوگل کے آنے والے فون کمپنی کی جانب سے پیش کیے جانے سے قبل

ہی کچھ کمپنیوں نے فروخت کے لیے پیش کردیے اور صارفین نے فون خرید بھی لیے۔  گوگل نے پکسل فونز کی تاریخ رونمائی 'خود لیک' کردی ٹیکنالوجی ادارے ‘انگیجٹ’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ہانگ کانگ کے آن لائن موبائل فون فروخت کرنے والے اسٹور نے ‘گوگل پکسل’ کے فونز کو رعایت کے ساتھ فروخت کے لیے پیش کیا۔ رپورٹ کے مطابق ‘واہ فون ڈیجیٹل’ کی جانب سے فونز کو آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک صارف نے ہانگ کانگ کے آن لائن اسٹور سے گوگل کا پکسل ایکس ایل اور پکسل فونز 2 ہزار 30 امریکی ڈالر میں خریدے۔ نشریاتی ادارے نے بتایا کہ گوگل پکسل ایکس ایل تھری کی اسکرین 6.3 انچ ہے، جب کہ اس میں 128 جی بی تک ڈیٹا اسٹوریج کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل پکسل ایکس ایل کا فرنٹ کیمرہ 8 میگا جب کہ بیک کیمرہ 12 میگا پکسل ہے۔ گوگل پکسل 3 بھی نوچ ڈیزائن سے لیس؟ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہاں گوگل کے یہ فون لیک ہوکر مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کردیے گئے ہیں، وہیں ان فونز کو پیش کرنے کی تاریخ بھی خود ہی گوگل نے رواں برس اگست میں لیک کی تھی۔ گوگل کی جانب سے لیک کی جانے والی تاریخ کے مطابق پکسل کے دونوں فونز کو 4 اکتوبر کو پیش کیا جائے گا، تاہم کمپنی نے انہیں مقررہ وقت پر پیش نہیں کیا، اب خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں آئندہ ہفتے تک پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ گوگل پکسل ایک ایل کی قیمت 850 ڈالر تک ہوگی، جب کہ پکسل کی قیمت 650 ڈالر تک بتائی گئی تھی، یعنی دونوں کی مجموعی قیمت 1500 ڈالر بنتی ہے۔ تاہم انگیجٹ کے مطابق صارف کو یہ فونز وقت سے پہلے 2 ہزار 30 ڈالر میں ملے، یعنی صارف کو دونوں فونز کو وقت سے ایک ہفتہ پہلے حاصل کرنے میں 530 امریکی ڈالر اضافی ادا کرنے پڑے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں