اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 226کا پابند، وزیر اعظم کی تنقید عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ وزیرا عظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ پہلے اداروں کو للکارتے ہیں اور بعد میں راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہمیں اس کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔ بحیثیت وزیر اعظم اپنے فروخت ہونے والے ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کیوں نہیں کرتے۔

ثابت ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف کی ٹوکری بھی گندے انڈوں سے بھری پڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بہر صورت ملکی آئین و قانون کے ماتحت خود مختار ادارہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 226کے تقاضوں اور معزز عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں سینٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کا پابند تھا۔ تنقید عدالتی اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت اداروں کے تقدس کو پامال کرنے کی بجائے ان کا احترام کر ے اور قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے ثبوت سامنے لائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی شروع دن سے ہارس ٹریڈنگ پر اپنا سخت رد عمل رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کرپشن کا پیسہ چلتا رہے گا ملک و قوم کو چوروں لیٹروں سے نجات اور محب وطن قیادت میسر نہیں آسکتی۔ فرسودہ نظام کے خاتمے کا وعدہ کرکے بر سر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت خود اسٹیٹس کو کی محافظ بن چکی ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک و قوم کو کرپٹ مافیا سے نجات دلائی جائے۔ ان کا ٹھکانا اسمبلیوں نہیں بلکہ جیل ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے جو جتنا بڑا چور اور ڈاکو اور بد عنوان ہے، اس کو اتنا ہی بڑا عہدہ مل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…