الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 226کا پابند، وزیر اعظم کی تنقید عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  14:12

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ وزیرا عظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ پہلے اداروں کو للکارتے ہیں اور بعد میں راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہمیں اس کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔ بحیثیت وزیر اعظم اپنے فروخت ہونے والے ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کیوں نہیں کرتے۔ثابت ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف کی ٹوکری بھی گندے انڈوں سے بھری پڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بہر صورت


ملکی آئین و قانون کے ماتحت خود مختار ادارہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 226کے تقاضوں اور معزز عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں سینٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کا پابند تھا۔ تنقید عدالتی اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت اداروں کے تقدس کو پامال کرنے کی بجائے ان کا احترام کر ے اور قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے ثبوت سامنے لائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی شروع دن سے ہارس ٹریڈنگ پر اپنا سخت رد عمل رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کرپشن کا پیسہ چلتا رہے گا ملک و قوم کو چوروں لیٹروں سے نجات اور محب وطن قیادت میسر نہیں آسکتی۔ فرسودہ نظام کے خاتمے کا وعدہ کرکے بر سر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت خود اسٹیٹس کو کی محافظ بن چکی ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک و قوم کو کرپٹ مافیا سے نجات دلائی جائے۔ ان کا ٹھکانا اسمبلیوں نہیں بلکہ جیل ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے جو جتنا بڑا چور اور ڈاکو اور بد عنوان ہے، اس کو اتنا ہی بڑا عہدہ مل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

راﺅنڈ اباﺅٹ

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎