ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 226کا پابند، وزیر اعظم کی تنقید عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ وزیرا عظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ پہلے اداروں کو للکارتے ہیں اور بعد میں راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہمیں اس کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔ بحیثیت وزیر اعظم اپنے فروخت ہونے والے ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کیوں نہیں کرتے۔

ثابت ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف کی ٹوکری بھی گندے انڈوں سے بھری پڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بہر صورت ملکی آئین و قانون کے ماتحت خود مختار ادارہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 226کے تقاضوں اور معزز عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں سینٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کا پابند تھا۔ تنقید عدالتی اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت اداروں کے تقدس کو پامال کرنے کی بجائے ان کا احترام کر ے اور قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے ثبوت سامنے لائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی شروع دن سے ہارس ٹریڈنگ پر اپنا سخت رد عمل رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کرپشن کا پیسہ چلتا رہے گا ملک و قوم کو چوروں لیٹروں سے نجات اور محب وطن قیادت میسر نہیں آسکتی۔ فرسودہ نظام کے خاتمے کا وعدہ کرکے بر سر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت خود اسٹیٹس کو کی محافظ بن چکی ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک و قوم کو کرپٹ مافیا سے نجات دلائی جائے۔ ان کا ٹھکانا اسمبلیوں نہیں بلکہ جیل ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے جو جتنا بڑا چور اور ڈاکو اور بد عنوان ہے، اس کو اتنا ہی بڑا عہدہ مل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…