جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 226کا پابند، وزیر اعظم کی تنقید عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ وزیرا عظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ پہلے اداروں کو للکارتے ہیں اور بعد میں راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہمیں اس کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔ بحیثیت وزیر اعظم اپنے فروخت ہونے والے ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کیوں نہیں کرتے۔

ثابت ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف کی ٹوکری بھی گندے انڈوں سے بھری پڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بہر صورت ملکی آئین و قانون کے ماتحت خود مختار ادارہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 226کے تقاضوں اور معزز عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں سینٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کا پابند تھا۔ تنقید عدالتی اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت اداروں کے تقدس کو پامال کرنے کی بجائے ان کا احترام کر ے اور قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے ثبوت سامنے لائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی شروع دن سے ہارس ٹریڈنگ پر اپنا سخت رد عمل رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کرپشن کا پیسہ چلتا رہے گا ملک و قوم کو چوروں لیٹروں سے نجات اور محب وطن قیادت میسر نہیں آسکتی۔ فرسودہ نظام کے خاتمے کا وعدہ کرکے بر سر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت خود اسٹیٹس کو کی محافظ بن چکی ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک و قوم کو کرپٹ مافیا سے نجات دلائی جائے۔ ان کا ٹھکانا اسمبلیوں نہیں بلکہ جیل ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے جو جتنا بڑا چور اور ڈاکو اور بد عنوان ہے، اس کو اتنا ہی بڑا عہدہ مل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…