وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا بھی اقامہ نکل آیا

  ہفتہ‬‮ 16 جنوری‬‮ 2021  |  19:35

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے میڈیا آفس اسلام آباد میں ہفتہ کے روز پلواشہ خان، نذیر ڈھوکی اور کیپٹن واصف کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب خان کی جانب سے جمعہ کے روز سینیٹ میں کی گئی تقریر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایکایسا شخص جو ماضی کی تقریبا ہر حکومت میں شامل رہا ہو کو گزشتہ حکومتوں پر بے بنیاد الزامات لگانا زیب نہیں دیتا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عمر ایوب پر سابق ایم این اے بابر نواز نے اپنے اثاثے


چھپانے کا مقدمہ قائم کر رکھا ہے۔ عمر ایوب کو چاہیے کہ گزشتہ حکومتوں پر الزامات لگانے کی بجائے اپنی اور اپنے خاندان کی کرپشن پر اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عمر ایوب کے پاس یو اے ای کا انویسٹر اقامہ ہے لیکن عمر ایوب خان نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے وہاں کتنی بڑی رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔ عمر ایوب نے لندن میں اپنی جائیداد کی تفصیل نہیں بتائی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حال ہی میں بجلی کا تاریخی بریک ڈان بھی عمر ایوب کی نااہلی کی وجہ سے ہوا۔ اس وقت بھی تاریخی بدترین لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے عمر ایوب کو متنبہ کیا کہ اگر عمر ایوب اگر ذاتیات پر جائیں گے تو پھر ہم بھی ذاتیات پر جائیں گے۔ عمر ایوب اسمبلی میں کھڑے ہو کر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن اپنی کرپشن پر کئے گئے سوالات کے جواب نہیں دیتے۔ انہوں نے کہ اکہ پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ معیشت کے 200 ارسطو کہیں نظری نہیں آرہے۔ بی آرٹی کا 29ارب کا منصوبہ100 ارب سے بھی تجاوز کر گیا ہے اور سبز پاسپورٹ کی عزت بنانے کے دعویداروں نے کل ملائشیا میں ملک کی جگ ہنسائی کروائی۔ پلوشہ خان نے کہا کہ عمر ایوب کو تنقید کا بخار اس لئے ہے کہ اس کو پیپلزپارٹی میں گھسنے نہیں دیا۔ ایک بے پر کے جہاز نے پاکستان کے جہاز ضبط کرا دئیے۔ عمران خان نے جی ایچ کیو کو سیاستدانوں کی نرسری قرار دیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

میرے دو استاد

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎