بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سی ڈی اے کا سمندر کی سیر کے لیے عوامی فیری سروس شروع کرنے کا اعلان

datetime 15  جنوری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) پاکستانیوں کو مناسب داموں سمندر کی سیر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ادارہ برائے ساحلی ترقی (سی ڈی اے)حکومت سندھ بنیادی سروے جلد مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اندرون سمندر خشکی پر قائم پر تفریح مقامات کی نشاندہی کرے اور عوام کووہاں لانے لیجانے کے لیے نجی شعبہ کی شراکت سے فیری سروس

شروع کرائے تاکہ پاکستانی بھی ملک میں رہتے ہوئے ایسی ساحلی تفریح کا لطف اٹھاسکیں جس کے لیے فی الحال انہیں ملک سے باہر جانا پڑتا ہے۔یہ بات حکومت سندھ کے ترجمان اور وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے ساحلی ترقی پر بلائے گئے اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی محمد اسلم غوری اور ڈائریکٹر جنرل ادارہ برائے ساحلی ترقی(سی ڈی اے) حکومت سندھ ریاض علی عباسی کے علاوہ دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔مشیر ساحلی ترقی کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صحت مند تفریحی مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زمینی وسائل کے ساتھ ساتھ سمندری وسائل کو بھی بروے کار لایا جائے تاکہ اندرون سمندر مختلف چھوٹے چھوٹے جزیروں پر جاکر عوام کو اندازہ ہوسکے کہ قدرت نے ہمیں کیسی کیسی بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے بس ان کی تھوڑی بہت دیکھ بھال سے انہیں ہم عالمی معیار کے سیاحتی مقامات بناسکتے ہیں۔مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ ادارہ برائے ساحلی ترقی اس ضمن میں نجی شعبہ کو بھی سمندری سیاحتی ترقی کی کوششوں میں اپنے ساتھ رکھے تاکہ دونوں شعبہ جات کے تعاون سے قدرتی وسائل سے مالامال سندھ کی ساحلی پٹی کو صوبے

اور ملک کی ترقی کے لیے ہر طرح سے بروئے کار لایاجاسکے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوں ہی سمندری سیر کی ابتدائی سہولت کا آغاز ہوگا تو عوامی طلب کے دبا کو دیکھتے ہوئے نجی شعبہ کے بہت سارے سرمایہ کار اس علاقے میں سیاحتی توسیع کرنے سامنے آئیں گے جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے

بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو بھی ابھارنے میں بھی مدد ملے گی۔مرتضی وہاب نے مزید کہا دنیا میں سمندری سیاحت کو نیلی معیشت(بلیو اکنامی) کہا جاتا ہے جس کے ذریعے سمندر سے لگے ترقی یافتہ ممالک کروڑوں ڈالر سالانہ غیر ملکی زرمبادلہ کماتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بطور ترقی پذیر ملک ہم بھی ان قیمتی ذرائع کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی معیشت کی نمو میں تیزی لائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…