بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں پہلی سے 8ویں کلاس تک تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق بھی اہم فیصلہ ہو گیا

  پیر‬‮ 4 جنوری‬‮ 2021  |  13:11

اسلام آباد (این این آئی)وزیر تعلیم شفقت محمود نے 18جنوری سے مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نویں سے 12ویں جماعت تک تعلیمی اداروں کو 18جنوری سے کھول دیا جائیگا،18جنوری نویں سے 12ویں کی وہ جماعتیں جن کا امتحان ہونا ہے، وہ شروع ہو جائیں گی اور ان جماعتوں کے طالبعلم اپنے اسکول و کالجز میں جائیں گے اور پڑھائی شروع ہو جائے گی،25 جنوری سے پرائمری سے 8ویں تک باقی طالبعلم اسکول آنا شروع کردیں گے ، یکم فروری کو یونیورسٹی، کالجز سمیت ہائر ایجوکیشن کے ادارے کھول دئیے جائیں گے۔پیر کو وفاقی


وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں کورونا وائرس کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور سیکرٹری صحت عامر خواجہ اجلاس میں شریک ہوئے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں کورونا مثبت کیسز کی شرح پر بریفنگ دی گئی ،چاروں صوبوں کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے ،اجلاس میں تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق بھی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلا س کے بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے وفاقی وزیر تعلیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سخت احتیاطی اقدامات اٹھائے جن کا تعلق ہمارے تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے تھا اور جو دیگر ہم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جیسے بڑے اجتماعات، شادی ہال اور ریسٹورنٹس بند جگہ پر ڈائننگ پر پابندی عائد کی۔انہوں نے کہا کہ سب سے واضح اثر تعلیمی بند کرنے سے پڑا، یہ تعلیمی ادارے ہمارے ملک کے مستقبل کیلئے بہت اہم حصہ ہیں اور ہم نے بادل نخواستہ ہی انہیں بند کیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ ڈیٹا سے یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ شاید اس وقت ہمیں اس معاملے میں مزید احتیاط اور التوا کرے کی ضرورت پڑے تاکہ تعلیمی ادارے کھولنے سےقبل ہماری دوسری لہر کی شدت میں کمی آ چکی ہو۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ تعلیمی ادارے ادارے کرنے کا اثر پڑا اور دوسری لہر میں کچھ ٹھہراؤ دیکھنے میں آیا۔اس موقع پر وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ہماری حکومت کے پیش نظر اولین چیز یہ ہے کہ ہم نے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے اور بچوں کی صحت سے کوئی رسک نہیں لینا اور تفصیلی بحث مباحثے کے بعد یہفیصلے ہوئے ہیں جو میں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 18جنوری نویں سے 12ویں کی وہ جماعتیں جن کا امتحان ہونا ہے، وہ شروع ہو جائیں گی اور ان جماعتوں کے طالبعلم اپنے اسکول و کالجز میں جائیں گے اور ان کی پڑھائی شروع ہو جائے گی۔انہوںنے کہاکہ 25 جنوری سے پرائمری سے 8ویں تک باقی طالبعلم اسکول آنا شروع کردیں گے جبکہ یکم فروری کو یونیورسٹی، کالجز سمیت ہائر ایجوکیشن کے ادارے کھول دیے جائیں گے۔شفقت محمود نے کہا کہ بتدریج تین مرحلوں میں تعلیمیادارے کھولنے کا عمل مکمل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 10تاریخ موسم سرما کی تعطیلات دی تھیں اور اساتذہ اور انتظامی عملے کو 11جنوری سے اسکول، کالجز، یونیورسٹیز آنے کی اجازت ہو گی اور یونیورسٹیز آن لائن کام کر سکتی ہیں۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ بورڈ کے جو امتحانات مارچ یا اپریل کے اوائل میں ہونے تھے ان کو ملتوی کیا جا رہا ہے اور بورڈ کے امتحانات اب مئی اور جون میں ہوں گےکیونکہ بچوں نے ابھی تک اپنا کورس ورک مکمل نہیں کیا اور وہ اس عرصے میں اپنا کورس ورک مکمل کر سکیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ 14 یا 15 تاریخ صحت کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ بیماری کنٹرول میں ہے اور ہم جو دیکھ رہے ہیں ٹرینڈ اسے لحاظ سے چل رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال کے اوائل میں ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کےچند ہفتوں بعد 15 مارچ سے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے جبکہ سندھ میں 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے ہی تعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے۔وائرس کی صورتحال میں بہتری کے بعد 6 ماہ کے طویل عرصے کے بعد 15ستمبر کو دوبارہ کھول دیے گئے تھے البتہ نومبر کے آخری ہفتے میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر 26نومبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎