بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

گندم کی امدادی قیمت دو سو روپے بڑھا کر کسانوں کا مذاق  قیمت کتنی کی جائے ،  پرویز الہٰی نے بڑا مطالبہ کر دیا 

datetime 27  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ گندم کی فی من امدادی قیمت صرف دو سو روپے بڑھا کر کسانوں کا مذاق اڑایا گیا، فی من گندم کی کم از کم قیمت دو ہزار روپے مقرر کی جائے، مارکیٹ میں گندم 24 سو روپے فی من فروخت ہو رہی ہے اگر پنجاب گندم میں ہمارے دور کی طرح خود کفیل ہونا چاہتا ہے تو اسے کسانوں کا خیال رکھنا ہو گا

ورنہ اس کا منفی اثر پڑے گا اور کسان کسی دوسری فصل کی کاشت کرنے پر مجبور ہو گا، امدادی رقم سے گندم لگانے کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا تو کسان کیا بچائے گا، کیا کھائے گا اور کیا لگائے گا، پنجاب اسمبلی کی سپیشل ایگریکلچر کمیٹی کی سربراہی بھی خود کر رہے ہیں لیکن وہاں بھی اس حوالے سے مایوسی ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ کسانوں کو گندم کی یہ قیمت کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گی، 80 فیصد کسان وہ طبقہ ہے جو ملک کو غذائی اشیاء فراہم کرتا ہے لیکن یہ طبقہ اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، گندم غریب کی ضرورت ہے اس لیے کسانوں کو گندم کی اچھی قیمت ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 1600 روپے فی من امدادی قیمت سے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اگر کسانوں کو ریلیف نہ دیا گیا تو اگلے سال ملک میں گندم کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، اس وقت کسان سوچ رہا ہے کہ گندم کی بجائے کوئی دوسری فصل کاشت کی جائے جس سے معاشی مشکلات حل ہوں، کھاد، پٹرول، ڈیزل اور ادویات کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے گندم کاشت کرنا ممکن نہیں رہا، کسانوں کو ریلیف نہیں مل رہا اگر یہی حال رہا تو کسان اگلے سال چارہ اور سبزیاں کاشت کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے مہنگی گندم درآمد کرنا کسان کے پیٹ پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…