سنی تنظیمات نے مدارس میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا، حکومت کو انتباہ بھی جاری

  ہفتہ‬‮ 6 جون‬‮ 2020  |  22:06

لاہور(این این آئی)سنی تنتظیمات کے مشترکہ پلیٹ فارم تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام دارالعلوم جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہومیں گزشتہ روزہونے والے”ناظمین مدارس اہل سنت کنونشن“کے مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ مدارس اہل سنت میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر داخلوں کاآغاز ہوچکاہے اسے شوال المکرم کے دوسرے عشرے کے اختتام تک مکمل کیا جائے گا۔20شوال المکرم بمطابق 14جون 2020ء کے بعدمدارس دینیہ میں پہلے کی طرح تعلیمی سرگرمیوں کاآغاز کیاجائے گا۔حکومت وقت اورملکی اداروں کے ساتھ مساجد کے لئے طے شدہ ایس اوپیز مدارس میں بھی فالو کئے جائیں گے۔ملک کے مذہبی طبقہ نے کرونا وائرس کی


صورتحال میں سب سے زیادہ ذمہ داری کاثبوت دیاہے اورآئندہ بھی دیں گے۔لیکن دینی اقدار وروایات کاتحفظ اورپاسداری پرکسی قسم کاسمجھوتانہیں کیا جائے گا۔اگر صوبائی اوروفاقی حکومت یا ملکی ادارروں نے مذہبی طبقہ یامدارس دینیہ کودیوار سے لگانے کی کوشش کی توہم کوئی راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے۔11جون 2020ء بروزجمعرات صبح9بجے ڈاکٹرسرفراز نعیمی شہیدؒ کے 11ویں یوم شہادت کے موقع پرجامعہ نعیمیہ میں شہید پاکستان سیمینار کاانعقاد کیا جائے گا۔ 12جون جمعۃ المبارک بطوریوم شہید پاکستان منایاجائے گا جس میں خطبات جمعہ اوردیگر محافل میں ڈاکٹرسرفراز نعیمی شہیدؒکی ملک وملت باالخصوص مدارس دینیہ کے لئے گرانقدر خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیاجائے گا۔سیمینار کی صدارت شیخ الحدیث صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی نے کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ وممبراسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاکہ کرونا وائر س سے دنیا بھر کے ممالک متاثر ہوئے،کرونا کوکنٹرول کرنے کیلئے کچھ ممالک میں لاک ڈاؤن کیا گیا اورکئی ممالک میں دیگر حفاظتی اقدامات کوفالوگیا گیا۔وفاق کی عدم تسلسل پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کرونا وائرس کوکنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔کرونا وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے حوالہ سے صوبائی وفاقی حکومت کنفوژن کاشکار رہی ہے۔کرونا کی روک تھام کے حوالہ سے اب تک صوبائی حکومتیں اوروفاقی حکومت ایک بیچ پر نہیں آسکیں مدارس دیینہ میں روایتی نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ جدیدنظام تعلیم کو اپنایاجائے تاکہ طلبہ کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچایا سکے۔آن لائن کلاسز اورفاصلاتی وموصلاتی نظام کے تحت بھی مدارس دینیہ کے طلبہ وطالبات کے لئے تعلیم وتدریس کااہتمام کیاجائے۔شیخ الحدیث صاحبزاہ رضائے مصطفی نقشبندی نے اپنے صدارت کلمات میں کہاکہ کرونا سے نجات کے لئے توبہ واستغفار کیا جائے۔مسائل کے حل کیلئے مسلم امہ اسوۂ رسول ؐ سے رہنمائی لے۔مولانا محمدعلی نقشبندی نے کہاکہ مدارس کے مسائل انفراد ی نہیں اجتماعی ہیں ملکر حل کرناہوں گے،ناظمین مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دے کر مسائل کے حل کے لئے اپنا کردارادا کریں۔، شیخ الحدیث مفتی گل احمدعتیقی،مولاناپیر محمدعلی نقشبندی،علامہ محمدقاسم علوی، پیر معاذ المصطفیٰ،علامہ محمدراحت عطاری،صدر نعیمین ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹرمفتی محمدحسیب قادری،مفتی خلیل احمدیوسفی،علامہ طاہر شہزاد سیالوی،قاری مختار احمدصدیقی،علامہ شریف الدین قذافی، علامہ محمدعبداللہ ثاقب،علامہ نعیم جاوید نوری،مفتی محمدانوار، مفتی انتخاب احمد،مولانا حبیب احمد سعیدی،مولانا شفقت یوسفی،مولانا اعظم علی نعیمی،پیر بشیرجان سیفی،حاجی عبداالخالق،مولاناعبدالغفار گجر،مولانا حسن رضادیگر تنظیمات اورمدارس کے نمائندگان شریک ہوئے۔سیمینار میں شریک ناظمین،علماء ومشائخ نے تحفظ ختم نبوت،تحفظ ناموس رسالت،استحکام پاکستان،تحفظ مدارس دینیہ کے لئے اکابرین اہل سنت کے مقدس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے تجد ید عہد کیا اورعز م دہرایا۔سیمینار کے اختتام پر اسلام کی سربلندی اورملک وقوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکرائی گئی۔


موضوعات: