ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا سے بچائو اسلام کیا کہتا ہے ؟حضوراکرمؐ نے اللہ پاک سے اپنی امت کیلئے کونسی دعا مانگی تھی جو اللہ پاک نے قبول فرمائی تھی ؟ مولانا طارق جمیل کی خصوصی گفتگو

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا طارق جمیل نے نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ اللہ پاک کے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جس علاقے میں کوئی وبا پھیل جائے تو وہاں کوئی نہ جائے ، اور جہاں یہ پھیل جائے تو وہاں سے بھی کوئی باہر نہ نکلے ۔بلکہ ایک اور جگہ نبی کریم ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ’’ اسلام میں چھوت نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو لگ جائے گی ‘‘سب کچھ اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر جو حکومت وقت اور ڈاکٹرز کی جانب سے بتائی جارہی ہیں عوام کو چاہیے کہ ان پر عمل کرے ۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ہم اللہ پاک سے دعائیں کر رہے ہیں کہ یا اللہ پاک اس بیماری سے جلد سے ختم فرما ، اللہ پاک نے چاہا تو انشاء اللہ یہ بہت جلد ہی ختم ہو جائیگی بےشک اللہ پاک کیلئے اس ختم کرنا کوئی مشکل نہیں وہ چاہے تو ایک ہوا کہ جھونکے کی طرح لے جائے ۔ڈاکٹرز کے مطابق گرمی پڑتی ہے تو اس کے چراثیم مر جاتے ہیں، اگر یہ بیماری رمضان اور عید تک چلتی تو اس میں بھی گلے ملنا کوئی سنت ہے اور نہ کوئی مستحب ہے ۔ بلکہ یہ ہمارے علاقے کا ایک رواج ہے ۔ ایسی صورتحال میں تو بالکل بھی نہیں ملنا چاہیے بلکہ نماز پڑھ کر اپنے اپنے گھروں کو چلیں جائیں ۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مولانا تقی صاحب کے دیئے گئے بیان کیساتھ میں اتفاق کروں گا لیکن میرے نزدیک اللہ پاک نہ کرے اگر بیماری وبائی شکل اختیار کر جاتی ہے تو فرض نماز بھی گھر میں ادا کر لیں تو مسئلہ نہیں ۔ کیونکہ ایک حدیث سے ہمیں ایک دلیل ملتی ہے کہ مدینہ میں بارش بہت تیز ہو رہی تھی ، حضرت بلال ؓ نے جب آذان دی تو آپؐ نے فرمایا کہ بلال اعلان کرو کہ ’’ لوگو نماز اپنے گھروں میں پڑھو، مسجد مت آئو ، تو آپؐ نے بارش کی وجہ سے لوگوں کو نماز گھروں میں پڑھنے کا حکم دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم ﷺ کاا رشاد ہے:’’میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا تو اس نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک نہیں۔ میں نے دعا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے تو یہ بات مجھے عطا کردی(دعا قبول فرمائی) اور میں نے دعا کی کہ ان پر باہر سے کوئی دشمن مسلط نہ کرے تو یہ بات بھی عطا کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…